کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: آیت کی تفسیر ”ہم نے بنی اسرائیل کو مطلع کر دیا تھا کہ آئندہ وہ فساد کریں گے“۔
حدیث نمبر: Q4709
أَخْبَرْنَاهُمْ أَنَّهُمْ سَيُفْسِدُونَ ، وَالْقَضَاءُ عَلَى وُجُوهٍ ، وَقَضَى رَبُّكَ : أَمَرَ رَبُّكَ وَمِنْهُ الْحُكْمُ ، إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ ، وَمِنْهُ الْخَلْقُ ، فَقَضَاهُنَّ : سَبْعَ سَمَوَاتٍ خَلَقَهُنَّ ، نَفِيرًا : مَنْ يَنْفِرُ مَعَهُ ، وَلِيُتَبِّرُوا : يُدَمِّرُوا ، مَا عَلَوْا ، حَصِيرًا : مَحْبِسًا مَحْصَرًا ، حَقَّ : وَجَبَ ، مَيْسُورًا : لَيِّنًا ، خِطْئًا : إِثْمًا وَهُوَ اسْمٌ مِنْ خَطِئْتَ وَالْخَطَأُ مَفْتُوحٌ مَصْدَرُهُ مِنَ الْإِثْمِ خَطِئْتُ بِمَعْنَى أَخْطَأْتُ ، تَخْرِقَ : تَقْطَعَ ، وَإِذْ هُمْ نَجْوَى : مَصْدَرٌ مِنْ نَاجَيْتُ فَوَصَفَهُمْ بِهَا وَالْمَعْنَى يَتَنَاجَوْنَ ، رُفَاتًا : حُطَامًا ، وَاسْتَفْزِزْ : اسْتَخِفَّ ، بِخَيْلِكَ : الْفُرْسَانِ وَالرَّجْلُ وَالرِّجَالُ الرَّجَّالَةُ وَاحِدُهَا رَاجِلٌ مِثْلُ صَاحِبٍ وَصَحْبٍ وَتَاجِرٍ وَتَجْرٍ ، حَاصِبًا : الرِّيحُ الْعَاصِفُ وَالْحَاصِبُ أَيْضًا مَا تَرْمِي بِهِ الرِّيحُ وَمِنْهُ ، حَصَبُ جَهَنَّمَ : يُرْمَى بِهِ فِي جَهَنَّمَ وَهُوَ حَصَبُهَا ، وَيُقَالُ حَصَبَ فِي الْأَرْضِ ذَهَبَ وَالْحَصَبُ مُشْتَقٌّ مِنَ الْحَصْبَاءِ وَالْحِجَارَةِ ، تَارَةً : مَرَّةً وَجَمَاعَتُهُ تِيَرَةٌ وَتَارَاتٌ ، لَأَحْتَنِكَنَّ : ، يُقَالُ : احْتَنَكَ فُلَانٌ مَا عِنْدَ فُلَانٍ مِنْ عِلْمٍ اسْتَقْصَاهُ ، طَائِرَهُ : حَظَّهُ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : كُلُّ سُلْطَانٍ فِي الْقُرْآنِ فَهُوَ حُجَّةٌ ، وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ : لَمْ يُحَالِفْ أَحَدًا.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور «قضاء» کے کئی معانی آئے ہیں ۔ جیسے آیت «وقضى ربك‏ ان لا تعبدوا» میں یہ معنی ہے کہ اللہ نے حکم دیا اور فیصلہ کرنے کے بھی معنی ہیں جیسے آیت «إن ربك يقضي بينهم‏» میں ہے اور پیدا کرنے کے بھی معنی میں ہے جیسے «فقضاهن سبع سموات‏» میں ہے ۔ «نفيرا‏» وہ لوگ جو آدمی کے ساتھ لڑنے کو نکلیں ۔ «وليتبروا‏ ما علوا‏» یعنی جن شہروں سے غالب ہوں ان کو تباہ کریں ۔ «حصيرا‏» قید خانہ ، جیل حق واجب ہوا ۔ «ميسورا‏» نرم ، ملائم ۔ «خطئا‏» گناہ یہ اسم ہے «خطئت » سے اور «خطئا‏» بالفتح مصدر ہے یعنی گناہ کرنا ۔ «خطئت » بکسر طاء اور «اخطات» دونوں کا ایک ہی معنی ہے یعنی میں نے قصور کیا غلطی کی ۔ «لن تخرق‏» تو زمین کو طے نہیں کر سکے گا ۔ ( کیونکہ زمین بہت بڑی ہے ) «نجوى‏» مصدر ہے ۔ «ناجيت » سے یہ ان لوگوں کی صفت بیان کی ہے ۔ یعنی آپس میں مشورہ کرتے ہیں ۔ «رفاتا‏» ٹوٹے ہوئے ریزہ ریزہ ۔ «واستفزز‏» دیوانہ کر دے گمراہ کر دے ۔ «بخيلك‏» اپنے سواروں سے ۔ «رجل» پیادے اس کا مفرد «راجل» ہے جیسے «صاحب» کی جمع «صحب» اور «تاجر» کی جمع «تجر‏.‏» ہے ۔ «حاصبا‏» آندھی ۔ «حاصب» اس کو بھی کہتے ہیں جو آندھی اڑا کر لائے ( ریت کنکر وغیرہ ) اسی سے ہے «حصب جهنم‏» یعنی جو جہنم میں ڈالا جائے گا وہی جہنم کا «حصب» ہے ۔ عرب لوگ کہتے ہیں «حصب في الأرض» زمین میں گھس گیا یہ «حصب» ، «حصباء» سے نکلا ہے ۔ «حصباء» پتھروں سنگریزوں کو کہتے ہیں ۔ «تارة‏» ایک بار ۔ اس کی جمع «تيرة» اور «تارات» آتی ہے ۔ «لأحتنكن‏» ان کو تباہ کر دوں گا ، جڑ سے کھود ڈالوں گا ۔ عرب لوگ کہتے ہیں «احتنك فلان ما عند فلان» یعنی اس کو جتنی باتیں معلوم تھیں وہ سب اس نے معلوم کر لیں کوئی بات باقی نہ رہی ۔ «طائره‏» اس کا نصیبہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا قرآن میں جہاں جہاں «سلطان» کا لفظ آیا ہے اس کا معنی دلیل اور حجت ہے ۔ «ولي من الذل‏» یعنی اس نے کسی سے اس لیے دوستی نہیں کی ہے کہ وہ اس کو ذلت سے بچائے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4709