حدیث نمبر: Q4705
الْمُقْتَسِمِينَ الَّذِينَ حَلَفُوا وَمِنْهُ لَا أُقْسِمُ : أَيْ أُقْسِمُ وَتُقْرَأُ لَأُقْسِمُ ، وَ قَاسَمَهُمَا : حَلَفَ لَهُمَا وَلَمْ يَحْلِفَا لَهُ وَقَالَ مُجَاهِدٌ : تَقَاسَمُوا : تَحَالَفُوا .
مولانا داود راز
«المقتسمين» سے وہ کافر مراد ہیں جنہوں نے رات کو جا کر قسم کھائی تھی کہ صالح پیغمبر کی اونٹنی کو مار ڈالیں گے ۔ اسی سے «لا أقسم» نکلا ہے کہ میں قسم کھاتا ہوں ۔ بعضوں نے اسے «لأقسم.» پڑھا ہے ( «لام» تاکید سے ) اسی سے ہے ۔ «قاسمهما» یعنی ابلیس نے آدم و حواء علیہما السلام کے سامنے قسم کھائی لیکن آدم و حواء نے قسم نہیں کھائی تھی ۔ مجاہد نے کہا کہ «تقاسموا بالله لنبيتنه» میں «تقاسموا» کا معنی یہ ہے کہ صالح پیغمبر کو رات کو جا کر مار ڈالنے کی انہوں نے قسم کھائی تھی ۔
حدیث نمبر: 4705
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْءَانَ عِضِينَ سورة الحجر آية 91 ، قَالَ : " هُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ ، جَزَّءُوهُ أَجْزَاءً فَآمَنُوا بِبَعْضِهِ ، وَكَفَرُوا بِبَعْضِهِ " .
مولانا داود راز
´مجھ سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ، انہیں ابوبشر نے خبر دی ، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا` آیت «الذين جعلوا القرآن عضين» ” جنہوں نے قرآن کے ٹکڑے کر رکھے ہیں “ کے متعلق کہا کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں کہ انہوں نے قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے ۔
حدیث نمبر: 4706
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، كَمَا أَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِينَ سورة الحجر آية 90 ، قَالَ : " آمَنُوا بِبَعْضٍ ، وَكَفَرُوا بِبَعْضٍ ، الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى " .
مولانا داود راز
´مجھ سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابوظبیان حصین بن جندب نے بیان کیا ، اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` آیت «كما أنزلنا على المقتسمين» میں سے یہود و نصاریٰ مراد ہیں کچھ قرآن انہوں نے مانا کچھ نہ مانا ۔