کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت کی تفسیر ”اور جس عورت کے گھر میں وہ تھے وہ اپنا مطلب نکالنے کو انہیں پھسلانے لگی اور دروازے بند کر لیے اور بولی کہ بس آ جا“۔
حدیث نمبر: Q4692
وَقَالَ عِكْرِمَةُ : هَيْتَ لَكَ بِالْحَوْرَانِيَّةِ هَلُمَّ ، وَقَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ : تَعَالَهْ .
مولانا داود راز
اور عکرمہ نے کہا «هيت لك» حورانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی آ جاہے ۔ سعید بن جبیر نے بھی یہی کہا ہے ۔
حدیث نمبر: 4692
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : هَيْتَ لَكَ سورة يوسف آية 23 ، قَالَ : وَإِنَّمَا نَقْرَؤُهَا كَمَا عُلِّمْنَاهَا مَثْوَاهُ سورة يوسف آية 21 ، مُقَامُهُ وَأَلْفَيَا سورة يوسف آية 25 : وَجَدَا ، أَلْفَوْا آبَاءَهُمْ سورة الصافات آية 69 : أَلْفَيْنَا ، وَعَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، بَلْ عَجِبْتَ وَيَسْخَرُونَ سورة الصافات آية 12 .
مولانا داود راز
´مجھ سے احمد بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے بشر بن عمر نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے سلیمان نے ، ان سے ابووائل نے کہ` عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے «هيت لك» پڑھا اور کہا کہ جس طرح ہمیں یہ لفظ سکھایا گیا ہے ۔ اسی طرح ہم پڑھتے ہیں ۔ «مثواه» یعنی اس کا ٹھکانا ، درجہ ۔ «ألفيا» یعنی پایا اسی سے ہے ۔ «ألفوا آباءهم» اور «ألفينا» ( دوسری آیتوں میں ) اور ابن مسعود سے ( سورۃ الصافات ) میں «بل عجبت ويسخرون» منقول ہے ۔
حدیث نمبر: 4693
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّ قُرَيْشًا لَمَّا أَبْطَئُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْإِسْلَامِ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ " ، فَأَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ كُلَّ شَيْءٍ ، حَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ ، حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا مِثْلَ الدُّخَانِ ، قَالَ اللَّهُ : فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ سورة الدخان آية 10 ، قَالَ اللَّهُ : إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ سورة الدخان آية 15 ، أَفَيُكْشَفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَقَدْ مَضَى الدُّخَانُ ، وَمَضَتِ الْبَطْشَةُ ؟ .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے مسلم نے ، ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ` قریش نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے میں تاخیر کی تو آپ نے ان کے حق میں بددعا کی کہ اے اللہ ! ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانہ کا سا قحط نازل فرما ۔ چنانچہ ایسا قحط پڑا کہ کوئی چیز نہیں ملتی تھی اور وہ ہڈیوں کے کھانے پر مجبور ہو گئے تھے ۔ لوگوں کی اس وقت یہ کیفیت تھی کہ آسمان کی طرف نظر اٹھا کے دیکھتے تھے تو بھوک و پیاس کی شدت سے دھواں سا نظر آتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين» ” تو آپ انتظار کیجئے اس روز کا جب آسمان کی طرف ایک نظر آنے والا دھواں پیدا ہو ۔ “ اور فرمایا «إنا كاشفو العذاب قليلا إنكم عائدون» ” بیشک ہم اس عذاب کو ہٹا لیں گے اور تم بھی ( اپنی پہلی حالت پر ) لوٹ آؤ گے ۔ “ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عذاب سے یہی قحط کا عذاب مراد ہے کیونکہ آخرت کا عذاب کافروں سے ٹلنے والا نہیں ہے ۔