کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: سورۃ ہود کی تفسیر۔
حدیث نمبر: Q4681-2
وَقَالَ أَبُو مَيْسَرَةَ الْأَوَّاهُ الرَّحِيمُ : بِالْحَبَشِيَّةِ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بَادِئَ الرَّأْيِ : مَا ظَهَرَ لَنَا ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ : الْجُودِيُّ : جَبَلٌ بِالْجَزِيرَةِ ، وَقَالَ الْحَسَنُ : إِنَّكَ لَأَنْتَ الْحَلِيمُ ، يَسْتَهْزِئُونَ بِهِ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَقْلِعِي : أَمْسِكِي ، عَصِيبٌ : شَدِيدٌ ، لَا جَرَمَ : بَلَى ، وَفَارَ التَّنُّورُ : نَبَعَ الْمَاءُ ، وَقَالَ عِكْرِمَةُ : وَجْهُ الْأَرْضِ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ ابومیسرہ ( عمرو بن شرحبیل ) نے کہا «الأواه » حبشی زبان میں مہربان ، رحم دل کو کہتے ہیں ۔ اور ابن عباس نے کہا «بادئ الرأي» کا معنی جو ہم کو ظاہر ہوا ۔ اور مجاہد نے کہا «جودي» ایک پہاڑ ہے اس جزیرے میں جو دجلہ اور فرات کے بیچ میں موصل کے قریب ہے ۔ اور امام حسن بصری نے کہا ۔ «إنك لأنت الحليم» یہ کافروں نے شعیب کو ٹھٹھے کی راہ سے کہا تھا ۔ اور ابن عباس نے کہا «أقلعي » کے معنی تھم جا ۔ «عصيب» کے معنی سخت ۔ «لا جرم» کا معنی کیوں نہیں ( یعنی ضروری ہے ) ۔ «وفار التنور» کا معنی پانی پھوٹ نکلا ۔ عکرمہ نے کہا «تنور» سطح زمین کو کہتے ہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4681-2