کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی اور جو لوگ کہ سونا اور چاندی زمین میں گاڑ کر رکھتے ہیں اور اس کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے! آپ انہیں ایک درد ناک عذاب کی خبر سنا دیں“۔
حدیث نمبر: 4659
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجَ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَكُونُ كَنْزُ أَحَدِكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن اعرج نے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ` مجھ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ تمہارا خزانہ جس میں زکوٰۃ نہ دی گئی ہو قیامت کے دن گنجے ناگ کی شکل اختیار کرے گا ۔
حدیث نمبر: 4660
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : مَرَرْتُ عَلَى أَبِي ذَرٍّ ، بِالرَّبَذَةِ ، فَقُلْتُ " مَا أَنْزَلَكَ بِهَذِهِ الْأَرْضِ ؟ " قَالَ : كُنَّا بِالشَّأْمِ ، فَقَرَأْتُ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ سورة التوبة آية 34 " ، قَالَ مُعَاوِيَةُ : مَا هَذِهِ فِينَا ، مَا هَذِهِ إِلَّا فِي أَهْلِ الْكِتَابِ ، قَالَ : قُلْتُ : " إِنَّهَا لَفِينَا وَفِيهِمْ " .
مولانا داود راز
´ہم سے قتیبہ بن سعد نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے حصین نے ، ان سے زید بن وہب نے بیان کیا کہ میں مقام ربذہ میں ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ` اس جنگل میں آپ نے کیوں قیام کو پسند کیا ؟ فرمایا کہ ہم شام میں تھے ۔ ( مجھ میں اور وہاں کے حاکم معاویہ رضی اللہ عنہ میں اختلاف ہو گیا ) میں نے یہ آیت پڑھی «والذين يكنزون الذهب والفضة ولا ينفقونها في سبيل الله فبشرهم بعذاب أليم» کہ ” اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور اس کو خرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں ، آپ انہیں ایک درد ناک عذاب کی خبر سنا دیں ۔ “ تو معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یہ آیت ہم مسلمانوں کے بارے میں نہیں ہے ( جب وہ زکوٰۃ دیتے رہیں ) بلکہ اہل کتاب کے بارے میں ہے ۔ فرمایا کہ میں نے اس پر کہا کہ یہ ہمارے بارے میں بھی ہے اور اہل کتاب کے بارے میں بھی ہے ۔