کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت کی تفسیر ”(اے مشرکو!) زمین میں چار ماہ چل پھر لو اور جان لو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے، بلکہ اللہ ہی کافروں کو رسوا کرنے والا ہے“ «سيحوا» یعنی «سيروا» یعنی چلو پھرو۔
حدیث نمبر: 4655
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، وَأَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ ، فِي تِلْكَ الْحَجَّةِ فِي مُؤَذِّنِينَ ، بَعَثَهُمْ يَوْمَ النَّحْرِ يُؤَذِّنُونَ بِمِنًى ، أَنْ لَا يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ ، وَلَا يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ ، قَالَ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : ثُمَّ أَرْدَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ بِبَرَاءَةَ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَأَذَّنَ مَعَنَا عَلِيٌّ يَوْمَ النَّحْرِ فِي أَهْلِ مِنًى بِبَرَاءَةَ ، وَأَنْ لَا يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ ، وَلَا يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ .
مولانا داود راز
´ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ، کہا مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ( کہا ) اور مجھے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے خبر دی کہ` ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس حج کے موقع پر ( جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں امیر بنایا تھا ) مجھے بھی اعلان کرنے والوں میں رکھا تھا ، جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم نحر میں اس لیے بھیجا تھا کہ اعلان کر دیں کہ آئندہ سال سے کوئی مشرک حج کرنے نہ آئے اور کوئی شخص بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر نہ کرے ۔ حمید بن عبدالرحمٰن نے کہا کہ پھر اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو پیچھے سے بھیجا اور انہیں سورۃ برات کے احکام کے اعلان کرنے کا حکم دیا ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ، چنانچہ ہمارے ساتھ علی رضی اللہ عنہ نے بھی یوم نحر ہی میں سورۃ برات کا اعلان کیا اور اس کا کہ آئندہ سال سے کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ کوئی ننگے ہو کر طواف کرے ۔