کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت کی تفسیر ”اعلان بیزاری ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکین سے جن سے تم نے عہد کر رکھا ہے (اور اب عہد کو انہوں نے توڑ دیا ہے)“۔
حدیث نمبر: Q4654
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أُذُنٌ : يُصَدِّقُ ، تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا : وَنَحْوُهَا كَثِيرٌ وَالزَّكَاةُ الطَّاعَةُ وَالْإِخْلَاصُ ، لَا يُؤْتُونَ الزَّكَاةَ : لَا يَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، يُضَاهُونَ : يُشَبِّهُونَ .
مولانا داود راز
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ «أذن» اس شخص کو کہتے ہیں جو ہر بات سن لے اس پر یقین کر لے «تطهرهم» اور «تزكيهم بها» کے ایک معنی ہیں ۔ قرآن مجید میں ایسے مترادف الفاظ بہت ہیں ۔ «الزكاة» کے معنی بندگی اور اخلاص کے ہیں ۔ «لا يؤتون الزكاة» کے معنی یہ کہ کلمہ «لا إله إلا الله» کی گواہی نہیں دیتے ۔ «يضاهون» ای «يشبهون» یعنی اگلے کافروں کی سی بات کرتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 4654
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " آخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176 ، وَآخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ بَرَاءَةٌ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے ابواسحاق نے کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ۔ انہوں نے کہا کہ` سب سے آخر میں یہ آیت نازل ہوئی تھی «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» اور سب سے آخر میں سورۃ برات نازل ہوئی ۔