کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: سورۃ برات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: Q4654-2
وَلِيجَةً : كُلُّ شَيْءٍ أَدْخَلْتَهُ فِي شَيْءٍ ، الشُّقَّةُ : السَّفَرُ الْخَبَالُ الْفَسَادُ وَالْخَبَالُ الْمَوْتُ ، وَلَا تَفْتِنِّي : لَا تُوَبِّخْنِي ، كَرْهًا : وَكُرْهًا وَاحِدٌ ، مُدَّخَلًا : يُدْخَلُونَ فِيهِ ، يَجْمَحُونَ : يُسْرِعُونَ ، وَالْمُؤْتَفِكَاتِ : ائْتَفَكَتِ انْقَلَبَتْ بِهَا الْأَرْضُ ، أَهْوَى : أَلْقَاهُ فِي هُوَّةٍ ، عَدْنٍ : خُلْدٍ عَدَنْتُ بِأَرْضٍ ، أَيْ أَقَمْتُ وَمِنْهُ مَعْدِنٌ ، وَيُقَالُ فِي مَعْدِنِ صِدْقٍ فِي مَنْبَتِ صِدْقٍ ، الْخَوَالِفُ : الْخَالِفُ الَّذِي خَلَفَنِي فَقَعَدَ بَعْدِي ، وَمِنْهُ يَخْلُفُهُ فِي الْغَابِرِينَ ، وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ النِّسَاءُ مِنَ الْخَالِفَةِ ، وَإِنْ كَانَ جَمْعَ الذُّكُورِ فَإِنَّهُ لَمْ يُوجَدْ عَلَى تَقْدِيرِ جَمْعِهِ ، إِلَّا حَرْفَانِ فَارِسٌ وَفَوَارِسُ وَهَالِكٌ وَهَوَالِكُ الْخَيْرَاتُ ، وَاحِدُهَا خَيْرَةٌ وَهِيَ الْفَوَاضِلُ ، مُرْجَئُونَ مُؤَخَّرُونَ الشَّفَا شَفِيرٌ وَهُوَ حَدُّهُ ، وَالْجُرُفُ مَا تَجَرَّفَ مِنَ السُّيُولِ وَالْأَوْدِيَةِ ، هَارٍ هَائِرٍ يُقَالُ تَهَوَّرَتِ الْبِئْرُ إِذَا انْهَدَمَتْ وَانْهَارَ مِثْلُهُ لَأَوَّاهٌ شَفَقًا وَفَرَقًا ، وَقَالَ الشَّاعِرُ : إِذَا قُمْتُ أَرْحَلُهَا بِلَيْلٍ تَأَوَّهُ آهَةَ الرَّجُلِ الْحَزِينِ
مولانا داود راز
‏‏‏‏ «وليجة‏» وہ چیز جو کسی دوسری چیز کے اندر داخل کی جائے ( یہاں مراد بھیدی ہے ) ۔ «الشقة‏» سفر یا دور دراز راستہ ۔ «خبال» کے معنی فساد اور «خبال» موت کو بھی کہتے ہیں ۔ «ولا تفتني‏» یعنی مجھ کو مت جھڑک ، مجھ پر خفا مت ہو ۔ «كَرها‏» اور «كُرها‏» دونوں کا معنی ایک ہے یعنی زبردستی ناخوشی سے ۔ «مدخلا‏» گھس بیٹھنے کا مقام ( مثلا سرنگ وغیرہ ) ۔ «يجمحون‏» دوڑتے جائیں ۔ «مؤتفكات‏» یہ «ائتفكت انقلبت بها الأرض‏.‏» سے نکلا ہے یعنی اس کی زمین الٹ دی گئی ۔ «أهوى‏» یعنی اس کو ایک گڑھے میں دھکیل دیا ۔ «عدن‏» کا معنی ہمیشگی کے ہیں ۔ عرب لوگ بولتے ہیں «عدنت بأرض» یعنی میں اس سر زمین میں رہ گیا ۔ اس سے «معدن» کا لفظ نکلا ہے ۔ ( جس کا معنی سونے یا چاندی یا کسی اور دھات کی کان کے ہیں ) ۔ «معدن صدق‏.‏» یعنی اس سر زمین میں جہاں سچائی اگتی ہے ۔ «الخوالف» ، «خالف» کی جمع ہے ۔ «خالف» وہ جو مجھ کو چھوڑ کر پیچھے بیٹھ رہا ۔ اسی سے ہے یہ حدیث «يخلفه في الغابرين» یعنی جو لوگ میت کے بعد باقی رہ گئے تو ان میں اس کا قائم مقام بن ( یعنی ان کا محافظ اور نگہبان ہو ) ۔ اور «الخوالف» سے عورتیں مراد ہیں اس صورت میں یہ «يخلفه» کی جمع ہو گی ( جیسے «فاعلة» کی جمع «فواعل» آتی ہے ) ۔ اگر «خالف» مذکر کی جمع ہو تو یہ «شاذ» ہو گی ایسے مذکر کی زبان عرب میں دو ہی «جمعه» آتی ہیں جیسے «فارس» اور «فوارس» اور «هالك» اور «هوالك‏» ۔ «الخيرات‏» ، «خيرة» کی جمع ہے ۔ یعنی نیکیاں بھلائیاں ۔ «مرجئون‏» ڈھیل میں دیئے گئے ۔ «الشفا» کہتے ہیں «شفير» کو یعنی کنارہ ۔ «الجرف» وہ زمین جو ندی نالوں کے بہاؤ سے کھد جاتی ہے ۔ «هار‏» گرنے والی اسی سے ہے «تهورت البئر» یعنی کنواں گر گیا ۔ «لأواه‏» یعنی خدا کے خوف سے اور ڈر سے آہ و زاری کرنے والا جیسے شاعر ( «مشقب عبدى» ) کہتا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4654-2