کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت کی تفسیر ”بدترین حیوانات اللہ کے نزدیک وہ بہرے، گونگے لوگ ہیں جو ذرا بھی عقل نہیں رکھتے“۔
حدیث نمبر: 4646
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لا يَعْقِلُونَ سورة الأنفال آية 22 ، قَالَ : " هُمْ نَفَرٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ورقاء بن عمر نے بیان کیا ، ان سے ابن ابی نجیح نے ، ان سے مجاہد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` آیت «إن شر الدواب عند الله الصم البكم الذين لا يعقلون» ” بدترین حیوانات اللہ کے نزدیک وہ بہرے گونگے ہیں جو عقل سے ذرا کام نہیں لیتے ۔ “ بنو عبدالدار کے کچھ لوگوں کے بارے میں اتری تھی ۔