کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت کی تفسیر ”آپ کہہ دیں کہ اللہ اس پر قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے کوئی عذاب بھیج دے“ آخر آیت تک۔
حدیث نمبر: Q4628
يَلْبِسَكُمْ : يَخْلِطَكُمْ مِنَ الِالْتِبَاسِ ، يَلْبِسُوا : يَخْلِطُوا ، شِيَعًا : فِرَقًا .
مولانا داود راز
«يلبسكم» کا معنی ملا دے خلط ملط کر دے ۔ یہ «الالتباس» سے نکلا ہے ۔ «شيعا» یعنی «فرقا» گروہ گروہ فرقے فرقے ۔
حدیث نمبر: 4628
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ سورة الأنعام آية 65 ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعُوذُ بِوَجْهِكَ ، قَالَ : أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ ، قَالَ : أَعُوذُ بِوَجْهِكَ ، أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ سورة الأنعام آية 65 ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا أَهْوَنُ أَوْ هَذَا أَيْسَرُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` جب یہ آیت «قل هو القادر على أن يبعث عليكم عذابا من فوقكم» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ ! میں تیرے منہ کی پناہ مانگتا ہوں ۔ پھر یہ اترا «أو من تحت أرجلكم» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یا اللہ ! میں تیرے منہ کی پناہ مانگتا ہوں ۔ پھر یہ اترا «أو يلبسكم شيعا ويذيق بعضكم بأس بعض» اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پہلے عذابوں سے ہلکا یا آسان ہے ۔