کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: سورۃ انعام۔
حدیث نمبر: Q4627
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ : مَعْذِرَتُه ، مَعْرُوشَاتٍ : مَا يُعْرَشُ مِنَ الْكَرْمِ وَغَيْرِ ذَلِكَ ، حَمُولَةً : مَا يُحْمَلُ عَلَيْهَا ، وَلَلَبَسْنَا : لَشَبَّهْنَا لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ أَهْلَ مَكَّةَ ، يَنْأَوْنَ : يَتَبَاعَدُونَ تُبْسَلُ تُفْضَحُ ، أُبْسِلُوا : أُفْضِحُوا ، بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ : الْبَسْطُ الضَّرْبُ ، وَقَوْلُهُ اسْتَكْثَرْتُمْ : مِنَ الْإِنْسِ أَضْلَلْتُمْ كَثِيرًا مِمَّا ، ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ : جَعَلُوا لِلَّهِ مِنْ ثَمَرَاتِهِمْ وَمَالِهِمْ نَصِيبًا وَلِلشَّيْطَانِ وَالْأَوْثَانِ نَصِيبًا أَكِنَّةً وَاحِدُهَا كِنَانٌ ، أَمَّا اشْتَمَلَتْ : يَعْنِي هَلْ تَشْتَمِلُ إِلَّا عَلَى ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى ، فَلِمَ تُحَرِّمُونَ بَعْضًا وَتُحِلُّونَ بَعْضًا ، مَسْفُوحًا : مُهْرَاقًا ، صَدَفَ : أَعْرَضَ ، أُبْلِسُوا : أُويِسُوا ، وَأُبْسِلُوا : أُسْلِمُوا ، سَرْمَدًا : دَائِمًا ، اسْتَهْوَتْهُ : أَضَلَّتْهُ ، تَمْتَرُونَ : تَشُكُّونَ ، وَقْرٌ : صَمَمٌ وَأَمَّا الْوِقْرُ فَإِنَّهُ الْحِمْلُ ، أَسَاطِيرُ : وَاحِدُهَا أُسْطُورَةٌ وَإِسْطَارَةٌ وَهْيَ التُّرَّهَاتُ الْبَأْسَاءُ مِنَ الْبَأْسِ وَيَكُونُ مِنَ الْبُؤْسِ ، جَهْرَةً : مُعَايَنَةً الصُّوَرُ جَمَاعَةُ صُورَةٍ كَقَوْلِهِ سُورَةٌ وَسُوَرٌ مَلَكُوتٌ مُلْكٌ مِثْلُ رَهَبُوتٍ خَيْرٌ مِنْ رَحَمُوتٍ ، وَيَقُولُ تُرْهَبُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تُرْحَمَ وَإِنْ تَعْدِلْ تُقْسِطْ لَا يُقْبَلْ مِنْهَا فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ ، جَنَّ : أَظْلَمَ تَعَالَى عَلَا يُقَالُ عَلَى اللَّهِ حُسْبَانُهُ أَيْ حِسَابُهُ ، وَيُقَالُ حُسْبَانًا مَرَامِيَ وَرُجُومًا لِلشَّيَاطِينِ مُسْتَقِرٌّ فِي الصُّلْبِ وَمُسْتَوْدَعٌ : فِي الرَّحِمِ الْقِنْوُ الْعِذْقُ وَالِاثْنَانِ قِنْوَانِ وَالْجَمَاعَةُ أَيْضًا قِنْوَانٌ مِثْلُ صِنْوٍ وَصِنْوَانٍ.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «ثم لم تكن فتنتهم‏» کا معنی پھر ان کا اور کوئی عذر نہ ہو گا ۔ «معروشات‏» کا معنی ٹٹیوں پر چڑھائے ہوئے جیسے انگور وغیرہ ( جن کی بیل ہوتی ہے ) ۔ «حمولة‏» کا معنی «لدو» یعنی بوجھ لادنے کے جانور ۔ «وللبسنا‏» کا معنی ہم شبہ ڈال دیں گے ۔ «ينأون‏» کا معنی دور ہو جاتے ہیں ۔ «تبسل» کا معنی رسوا کیا جائے ۔ «أبسلوا‏» رسوا کئے گئے ۔ «باسطو أيديهم‏» میں «بسط» کے معنی مارنا ۔ «استكثرتم‏» یعنی تم نے بہتوں کو گمراہ کیا ۔ «وجعلوا لله من ثمراتهم ومالهم نصيبا» یعنی انہوں نے اپنے پھلوں اور مالوں میں اللہ کا ایک حصہ اور شیطان اور بتوں کا ایک حصہ ٹھہرایا ۔ «اكنة» ، «كنان» کی جمع ہے یعنی پردہ ۔ «أما اشتملت‏» یعنی کیا مادوں کی پیٹ میں نر مادہ نہیں ہوتے پھر تم ایک کو حرام ایک کو حلال کیوں بناتے ہو ۔ اور «وما مسفوحا‏» یعنی بہایا گیا خون ۔ «صدف‏» کا معنی منہ پھیرا ۔ «أبلسوا‏» کا معنی ناامید ہوئے ۔ «فاذاهم مبلسون» میں اور «أبسلوا‏ بما كسبوا» میں یہ معنی ہے کہ ہلاکت کے لیے سپرد کئے گئے ۔ «سرمدا‏» کا معنی ہمیشہ ۔ «استهوته‏» کا معنی گمراہ کیا ۔ «يمترون‏» کا معنی شک کرتے ہو ۔«وقر‏» کا معنی بوجھ ( جس سے کان بہرا ہو ) ۔ اور «وقر‏» بکسرہ واؤ معنی بوجھ جو جانور پر لادا جائے ۔ «أساطير‏» ، «أسطورة» اور «إسطارة» کی جمع ہے یعنی واہیات اور لغو باتیں ۔ «البأساء» ، «بأس» سے نکلا ہے یعنی سخت مایوس سے یعنی تکلیف اور محتاجی نیز «بؤس‏.‏» سے بھی آتا ہے اور محتاج ۔ «جهرة‏» کھلم کھلا ۔ «صور» ( «يوم ينقخ فى الصور» ) میں «صورت» کی جمع جیسے «سور» ، «سورة» کی جمع ۔ «ملكوت» سے «ملك» یعنی سلطنت مراد ہے ۔ جیسے «رهبوت» اور «رحموت» مثل ہے «رهبوت» یعنی ڈر ۔ «رحموت» ( مہربانی ) سے بہتر ہے اور کہتے ہیں تیرا ڈرایا جانا بچہ پر مہربانی کرنے سے بہتر ہے ۔ «جن‏ عليه اليل» رات کی اندھیری اس پر چھا گئی ۔ «حسبان» کا معنی «حساب» ۔ کہتے ہیں اللہ پر اس کا «حسبان» یعنی «حساب» ہے اور بعضوں نے کہا «حسبان» سے مراد تیر اور شیطان پر پھینکنے کے حربے ۔ «مستقر» باپ کی پشت ۔ «مستودع‏» ماں کا پیٹ ۔ «قنو» ( خوشہ ) گچھہ اس کا تثنیہ «قنوان» اور جمع بھی «قنوان» جیسے «صنو» اور «صنوان‏.» ( یعنی جڑ ملے ہوئے درخت ) ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4627