کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت کی تفسیر ”اللہ نے نہ بحیرہ کو مقرر کیا ہے، نہ سائبہ کو اور نہ وصیلہ کو اور نہ حام کو“۔
حدیث نمبر: Q4623
وَإِذْ قَالَ اللَّهُ ، يَقُولُ : قَالَ اللَّهُ وَإِذْ هَا هُنَا صِلَةٌ الْمَائِدَةُ أَصْلُهَا مَفْعُولَةٌ كَعِيشَةٍ رَاضِيَةٍ وَتَطْلِيقَةٍ بَائِنَةٍ وَالْمَعْنَى مِيدَ بِهَا صَاحِبُهَا مِنْ خَيْرٍ يُقَالُ مَادَنِي يَمِيدُنِي . وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : مُتَوَفِّيكَ : مُمِيتُكَ .
مولانا داود راز
«وإذ قال الله» ( میں «قال» ) معنی میں «يقول» کے ہے اور «إذ» یہاں زائد ہے ۔ «المائدة» اصل میں «مفعولة» ( «ميمودة» ) کے معنی میں ہے گو صیغہ فاعل کا ہے ، جیسے «عيشة» ، «راضية» اور «تطليقة» ، «بائنة» میں ہے ۔ تو «مائدة» کا معنی «مميده» یعنی خیر اور بھلائی جو کسی کو دی گئی ہے ۔ اسی سے «مادني يميدني» ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : «متوفيك» کے معنی میں تجھ کو وفات دینے والا ہوں ۔ عیسیٰ علیہ السلام کو آخر زمانہ میں اپنے وقت مقررہ پر موت آئے گی وہ مراد ہو سکتی ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4623
حدیث نمبر: 4623
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : الْبَحِيرَةُ الَّتِي يُمْنَعُ دَرُّهَا لِلطَّوَاغِيتِ فَلَا يَحْلُبُهَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ ، وَالسَّائِبَةُ : كَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لِآلِهَتِهِمْ لَا يُحْمَلُ عَلَيْهَا شَيْءٌ ، قَالَ : وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ " ، كَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ ، وَالْوَصِيلَةُ : النَّاقَةُ الْبِكْرُ ، تُبَكِّرُ فِي أَوَّلِ نِتَاجِ الْإِبِلِ ، ثُمَّ تُثَنِّي بَعْدُ بِأُنْثَى ، وَكَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لِطَوَاغِيتِهِمْ إِنْ وَصَلَتْ إِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى لَيْسَ بَيْنَهُمَا ذَكَرٌ ، وَالْحَامِ : فَحْلُ الْإِبِلِ ، يَضْرِبُ الضِّرَابَ الْمَعْدُودَ ، فَإِذَا قَضَى ضِرَابَهُ وَدَعُوهُ لِلطَّوَاغِيتِ وَأَعْفَوْهُ مِنَ الْحَمْلِ ، فَلَمْ يُحْمَلْ عَلَيْهِ شَيْءٌ ، وَسَمَّوْهُ الْحَامِيَ . وقَالَ لِي أَبُو الْيَمَانِ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ،سَمِعْتُ سَعِيدًا ، قَالَ : يُخْبِرُهُ بِهَذَا ، قَالَ : وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، وَرَوَاهُ ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا داود راز
´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے صالح بن کیسان نے ، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ` «بحيرة» اس اونٹنی کو کہتے تھے جس کا دودھ بتوں کے لیے روک دیا جاتا اور کوئی شخص اس کے دودھ کو دوہنے کا مجاز نہ سمجھا جاتا اور «سائبة» اس اونٹنی کو کہتے تھے جسے وہ اپنے دیوتاؤں کے نام پر آزاد چھوڑ دیتے اور اس سے باربرداری و سواری وغیرہ کا کام نہ لیتے ۔ سعید راوی نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتوں کو جہنم میں گھسیٹ رہا تھا ، اس نے سب سے پہلے سانڈ چھوڑنے کی رسم نکالی تھی ۔ اور «وصيلة» اس جوان اونٹنی کو کہتے تھے جو پہلی مرتبہ مادہ بچہ جنتی اور پھر دوسری مرتبہ بھی مادہ ہی جنتی ، اسے بھی وہ بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے لیکن اسی صورت میں جبکہ وہ برابر دو مرتبہ مادہ بچہ جنتی اور اس درمیان میں کوئی نر بچہ نہ ہوتا ۔ اور «حام» وہ نر اونٹ جو مادہ پر شمار سے کئی دفعہ چڑھتا ( اس کے نطفے سے دس بچے پیدا ہو جاتے ) جب وہ اتنی صحبتیں کر چکتا تو اس کو بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے اور بوجھ لادنے سے معاف کر دیتے ( نہ سواری کرتے ) اس کا نام «حام» رکھتے اور ابوالیمان ( حکم بن نافع ) نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہوں نے زہری سے سنا ، کہا میں نے سعید بن مسیب سے یہی حدیث سنی جو اوپر گزری ۔ سعید نے کہا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ( وہی عمرو بن عامر خزاعی کا قصہ جو اوپر گزرا ) اور یزید بن عبداللہ بن ہاد نے بھی اس حدیث کو ابن شہاب سے روایت کیا ۔ انہوں نے سعید بن مسیب سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4623
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4624
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْكَرْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا ، وَرَأَيْتُ عَمْرًا يَجُرُّ قُصْبَهُ ، وَهْوَ أَوَّلُ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ " .
مولانا داود راز
´مجھ سے محمد بن ابی یعقوب ابوعبداللہ کرمانی نے بیان کیا ، کہا ہم سے حسان بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جہنم کو دیکھا کہ اس کے بعض حصے بعض دوسرے حصوں کو کھائے جا رہے ہیں اور میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتیں اس میں گھسیٹا پھر رہا تھا ۔ یہی وہ شخص ہے جس نے سب سے پہلے سانڈ چھوڑنے کی رسم ایجاد کی تھی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4624
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»