کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: آیت کی تفسیر ”لوگ آپ سے کلالہ کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیں کہ اللہ تمہیں خود کلالہ کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا شخص مر جائے کہ اس کے کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے ایک بہن ہو تو اس سے بہن کو اس کے ترکہ کا آدھا ملے گا اور وہ مرد وارث ہو گا اس (بہن کے کل ترکہ) کا اگر اس بہن کے کوئی اولاد نہ ہو“۔
حدیث نمبر: Q4605
وَالْكَلَالَةُ : مَنْ لَمْ يَرِثْهُ أَبٌ أَوِ ابْنٌ وَهُوَ مَصْدَرٌ مِنْ تَكَلَّلَهُ النَّسَبُ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ والكلالة من لم يرثه أب أو ابن وهو مصدر من تكلله النسب.
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4605
حدیث نمبر: 4605
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ بَرَاءَةَ ، وَآخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176 " .
مولانا داود راز
´ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے ابواسحاق نے اور انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` سب سے آخر میں جو سورت نازل ہوئی وہ سورۃ برات ہے اور ( احکام میراث کے سلسلے میں ) سب سے آخر میں جو آیت نازل ہوئی وہ «يستفتونك قل الله یفتیکم فى الکلالة» ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4605
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة