کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت کی تفسیر ”اور جو تمہیں سلام کرے اسے یہ نہ کہہ دیا کرو کہ تو تو مسلمان ہی نہیں“۔
حدیث نمبر: Q4591
السِّلْمُ وَالسَّلَمُ وَالسَّلَامُ وَاحِدٌ .
مولانا داود راز
«السلم» اور «السلم» اور «السلام» سب کا ایک ہی معنی ہے ۔
حدیث نمبر: 4591
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا سورة النساء آية 94 ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " كَانَ رَجُلٌ فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ فَلَحِقَهُ الْمُسْلِمُونَ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، فَقَتَلُوهُ ، وَأَخَذُوا غُنَيْمَتَهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي ذَلِكَ إِلَى قَوْلِهِ : تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا سورة النساء آية 94 تِلْكَ الْغُنَيْمَةُ ، قَالَ : قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ السَّلَامَ " .
مولانا داود راز
´مجھ سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے ، ان سے عطاء نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے` آیت «ولا تقولوا لمن ألقى إليكم السلام لست مؤمنا» ” اور جو تمہیں سلام کرتا ہو اسے یہ مت کہہ دیا کرو کہ تو تو مومن ہی نہیں ہے ۔ “ کے بارے میں فرمایا کہ ایک صاحب ( مرداس نامی ) اپنی بکریاں چرا رہے تھے ، ایک مہم پر جاتے ہوئے کچھ مسلمان انہیں ملے تو انہوں نے کہا ” السلام علیکم “ لیکن مسلمانوں نے بہانہ خور جان کر انہیں قتل کر دیا اور ان کی بکریوں پر قبضہ کر لیا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی تھی آخر آیت «عرض الحياة الدنيا» اس سے اشارہ انہیں بکریوں کی طرف تھا ۔ بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «السلام» قرآت کی ہے ، مشہور قرآت بھی یہی ہے ۔