کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت کی تفسیر یعنی ”اور انہیں جب کوئی بات امن یا خوف کی پہنچتی ہے تو یہ اسے پھیلا دیتے ہیں“ «أذاعوا» کا معنی مشہور کر دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: Q4590
أَيْ أَفْشَوْهُ يَسْتَنْبِطُونَهُ يَسْتَخْرِجُونَهُ حَسِيبًا كَافِيًا ، إِلَّا إِنَاثًا يَعْنِي الْمَوَاتَ حَجَرًا أَوْ مَدَرًا وَمَا أَشْبَهَهُ مَرِيدًا مُتَمَرِّدًا ، فَلَيُبَتِّكُنَّ بَتَّكَهُ قَطَّعَهُ قِيلًا وَقَوْلًا وَاحِدٌ طَبَعَ خَتَمَ .
مولانا داود راز
«يستنبطونه» کا معنی نکال لیتے ہیں ۔ «حسيبا» کا معنی کافی ہے ۔ «إلا إناثا» سے بے جان چیزیں مراد ہیں پتھر مٹی وغیرہ ۔ «مريدا» کا معنی شریر ۔ «فليبتكن» ، «بتكه» سے نکلا ہے یعنی اس کو کاٹ ڈالو ۔ «قيلا» اور «قولا» دونوں کے ایک ہی معنی ہیں ۔ «طبع» کا معنی مہر کر دی ۔