کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت کی تفسیر ”اور جو مال والدین اور قرابت دار چھوڑ جائیں اس کے لیے ہم نے وارث ٹھہرا دیئے ہیں“۔
حدیث نمبر: Q4580
وَقَالَ مَعْمَرٌ : أَوْلِيَاءُ مَوَالِي وَأَوْلِيَاء ، وَرَثَةٌ عَاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ هُوَ مَوْلَى الْيَمِينِ ، وَهْوَ الْحَلِيفُ وَالْمَوْلَى أَيْضًا ، ابْنُ الْعَمِّ ، وَالْمَوْلَى الْمُنْعِمُ الْمُعْتِقُ ، وَالْمَوْلَى الْمُعْتَقُ ، وَالْمَوْلَى الْمَلِيكُ ، وَالْمَوْلَى مَوْلًى فِي الدِّينِ .
مولانا داود راز
معمر نے کہا کہ «موالي» سے مراد اس کے اولیاء اور وارث ہیں ۔ «والذين عقدت ايمانكم» سے وہ لوگ مراد ہیں جن کو قسم کھا کر اپنا وارث بناتے تھے یعنی حلیف ۔ اور «مولى» کے کئی معانی آئے ہیں ، چچا کا بیٹا ، غلام ، لونڈی کا مالک ، جو اس پر احسان کرے ، اس کو آزاد کرے ، خود غلام ، جو آزاد کیا جائے ، مالک ، دین کا پیشوا ۔
حدیث نمبر: 4580
حَدَّثَنِي الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ إِدْرِيسَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : " وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ سورة النساء آية 33 ، قَالَ : وَرَثَةً ، وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 33 كَانَ الْمُهَاجِرُونَ لَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَرِثُ الْمُهَاجِرِيُّ الْأَنْصَارِيَّ دُونَ ذَوِي رَحِمِهِ لِلْأُخُوَّةِ الَّتِي آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ ، فَلَمَّا نَزَلَتْ وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ سورة النساء آية 33 ، نُسِخَتْ ، ثُمَّ قَالَ : وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 33 مِنَ النَّصْرِ ، وَالرِّفَادَةِ ، وَالنَّصِيحَةِ ، وَقَدْ ذَهَبَ الْمِيرَاثُ وَيُوصِي لَهُ " ، سَمِعَ أَبُو أُسَامَةَ إِدْرِيسَ ، وَسَمِعَ إِدْرِيسُ طَلْحَةَ .
مولانا داود راز
´ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے ادریس نے ، ان سے طلحہ بن مصرف نے ، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` ( آیت میں ) «ولكل جعلنا موالي» سے مراد وارث ہیں اور «والذين عاقدت أيمانكم» کی تفسیر یہ ہے کہ شروع میں جب مہاجرین مدینہ آئے تو قرابت داروں کے علاوہ انصار کے وارث مہاجرین بھی ہوتے تھے ۔ اس بھائی چارہ کی وجہ سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے درمیان کرایا تھا ، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی کہ «ولكل جعلنا موالي» تو پہلا طریقہ منسوخ ہو گیا پھر بیان کیا کہ «والذين عاقدت أيمانكم» سے وہ لوگ مراد ہیں ، جن سے دوستی اور مدد اور خیر خواہی کی قسم کھا کر عہد کیا جائے ۔ لیکن اب ان کے لیے میراث کا حکم منسوخ ہو گیا مگر وصیت کا حکم رہ گیا ۔ اس اسناد میں ابواسامہ نے ادریس سے اور ادریس نے طلحہ بن مصرف سے سنا ہے ۔