کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت کی تفسیر ”اور تمہارے لیے اس مال کا آدھا حصہ ہے جو تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں جبکہ ان کے اولاد نہ ہو“۔
حدیث نمبر: 4578
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ وَرْقَاءَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " كَانَ الْمَالُ لِلْوَلَدِ ، وَكَانَتِ الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ ، فَنَسَخَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ مَا أَحَبَّ ، فَجَعَلَ لِلذَّكَرِ مِثْلَ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ، وَجَعَلَ لِلْأَبَوَيْنِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسَ وَالثُّلُثَ ، وَجَعَلَ لِلْمَرْأَةِ الثُّمُنَ وَالرُّبُعَ ، وَللزَّوْجِ الشَّطْرَ وَالرُّبُعَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، ان سے ورقاء بن عمر یشکری نے ، ان سے ابن ابی نجیح نے ، ان سے عطاء نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` ابتداء اسلام میں میت کا سارا مال اولاد کو ملتا تھا ، البتہ والدین کو وہ ملتا جو میت ان کے لیے وصیت کر جائے ، پھر اللہ تعالیٰ نے جیسا مناسب سمجھا اس میں نسخ کر دیا ۔ چنانچہ اب مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصہ کے برابر ہے اور میت کے والدین یعنی ان دونوں میں ہر ایک کے لیے اس مال کا چھٹا حصہ ہے ۔ بشرطیکہ میت کے کوئی اولاد ہو ، لیکن اگر اس کے کوئی اولاد نہ ہو ، بلکہ اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کا ایک تہائی حصہ ہو گا اور بیوی کا آٹھواں حصہ ہو گا ، جبکہ اولاد ہو ، لیکن اگر اولاد نہ ہو تو چوتھائی ہو گا اور شوہر کا آدھا حصہ ہو گا ، جبکہ اولاد نہ ہو لیکن اگر اولاد ہو تو چوتھائی ہو گا ۔