کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت کی تفسیر ”آپ کو اس امر میں کوئی دخل نہیں کہ یہ ہدایت کیوں نہیں قبول کرتے اللہ جسے چاہے اسے ہدایت ملتی ہے“۔
حدیث نمبر: 4559
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنَ الْفَجْرِ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا " ، بَعْدَ مَا يَقُولُ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ إِلَى قَوْلِهِ : فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 . رَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ .
مولانا داود راز
´ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، کہا مجھ سے سالم نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا` اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فجر کی دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھا کر یہ بددعا کی ۔ ” اے اللہ ! فلاں ، فلاں اور فلاں کافر پر لعنت کر ۔ یہ بددعا آپ نے «سمع الله لمن حمده» اور «ربنا ولك الحمد» کے بعد کی تھی ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «ليس لك من الأمر شىء» ” آپ کو اس میں کوئی دخل نہیں ۔ “ آخر آیت «فإنهم ظالمون» تک ۔ اس روایت کو اسحاق بن راشد نے زہری سے نقل کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4560
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ عَلَى أَحَدٍ ، أَوْ يَدْعُوَ لِأَحَدٍ ، قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ ، فَرُبَّمَا قَالَ إِذَا قَالَ : "سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ ، وَاجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ " يَجْهَرُ بِذَلِكَ ، وَكَانَ يَقُولُ فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ : " اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا لِأَحْيَاءٍ مِنْ الْعَرَبِ " ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ سورة آل عمران آية 128 الْآيَةَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا ، ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی پر بددعا کرنا چاہتے یا کسی کے لیے دعا کرنا چاہتے تو رکوع کے بعد کرتے «سمع الله لمن حمده ، اللهم ربنا لك الحمد» کے بعد ۔ بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا بھی کی ” اے اللہ ! ولید بن ولید ، سلمہ بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے ، اے اللہ ! مضر والوں کو سختی کے ساتھ پکڑ لے اور ان میں ایسی قحط سالی لا ، جیسی یوسف علیہ السلام کے زمانے میں ہوئی تھی ۔ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے یہ دعا کرتے اور آپ نماز فجر کی بعض رکعت میں یہ دعا کرتے ۔ اے اللہ ، فلاں اور فلاں کو اپنی رحمت سے دور کر دے ۔ عرب کے چند خاص قبائل کے حق میں آپ ( یہ بددعا کرتے تھے ) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی «ليس لك من الأمر شىء» کہ ” آپ کو اس امر میں کوئی دخل نہیں ۔ “