کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت کی تفسیر ”تم لوگ بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہو تم نیک کاموں کا حکم کرتے ہو، برے کاموں سے روکتے ہو“۔
حدیث نمبر: 4557
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ سورة آل عمران آية 110 ، قَالَ : " خَيْرَ النَّاسِ لِلنَّاسِ ، تَأْتُونَ بِهِمْ فِي السَّلَاسِلِ فِي أَعْنَاقِهِمْ حَتَّى يَدْخُلُوا فِي الْإِسْلَامِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ان سے سفیان نے ، ان سے میسرہ نے ، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے` آیت «كنتم خير أمة أخرجت للناس» ” تم لوگ لوگوں کے لیے سب لوگوں سے بہتر ہو “ اور کہا ان کو گردنوں میں زنجیریں ڈال کر ( لڑائی میں گرفتار کر کے ) لاتے ہو پھر وہ اسلام میں داخل ہو جاتے ہیں ۔