کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت کی تفسیر ”بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں کوئی بھلائی نہیں ہے اور ان کو دکھ کا عذاب ہو گا“۔
حدیث نمبر: Q4549
أَلِيمٌ مُؤْلِمٌ مُوجِعٌ مِنَ الْأَلَمِ وَهْوَ فِي مَوْضِعِ مُفْعِلٍ .
مولانا داود راز
«أليم» کے معنی دکھ دینے والا جیسے «مؤلم» ہے ۔ «أليم» بروزن «فعيل» بمعنی «مفعل» ہے ( جو کلام عرب میں کم آیا ہے ۔ )
حدیث نمبر: 4549
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ يَمِينَ صَبْرٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا أُولَئِكَ لا خَلاقَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، قَالَ : فَدَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ ، وَقَالَ : مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قُلْنَا : كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فِيَّ أُنْزِلَتْ ، كَانَتْ لِي بِئْرٌ فِي أَرْضِ ابْنِ عَمٍّ لِي ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيِّنَتُكَ أَوْ يَمِينُهُ " ، فَقُلْتُ : إِذًا يَحْلِفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ وَهْوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانٌ " .
مولانا داود راز
´ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے اس لیے قسم کھائی کہ کسی مسلمان کا مال ( جھوٹ بول کر وہ ) مار لے تو جب وہ اللہ سے ملے گا ، اللہ تعالیٰ اس پر نہایت ہی غصہ ہو گا ، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کے اس فرمان کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا أولئك لا خلاق لهم في الآخرة» ” بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچتے ہیں ، یہ وہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں کوئی بھلائی نہیں ہے ۔ “ آخر آیت تک ۔ ابووائل نے بیان کیا کہ اشعث بن قیس کندی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور پوچھا : ابوعبدالرحمٰن ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے آپ لوگوں سے کوئی حدیث بیان کی ہے ؟ ہم نے بتایا کہ ہاں ، اس اس طرح سے حدیث بیان کی ہے ۔ اشعث رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ یہ آیت تو میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی ۔ میرے ایک چچا کے بیٹے کی زمین میں میرا ایک کنواں تھا ( ہم دونوں کا اس بارے میں جھگڑا ہوا اور مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا تو ) آپ نے مجھ سے فرمایا کہ تو گواہ پیش کر یا پھر اس کی قسم پر فیصلہ ہو گا ۔ میں نے کہا پھر تو یا رسول اللہ وہ ( جھوٹی ) قسم کھا لے گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جھوٹی قسم اس لیے کھائے کہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال لے اور اس کی نیت بری ہو تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ اس پر نہایت ہی غضبناک ہو گا ۔
حدیث نمبر: 4550
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ يَمِينَ صَبْرٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا أُولَئِكَ لا خَلاقَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، قَالَ : فَدَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ ، وَقَالَ : مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قُلْنَا : كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فِيَّ أُنْزِلَتْ ، كَانَتْ لِي بِئْرٌ فِي أَرْضِ ابْنِ عَمٍّ لِي ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيِّنَتُكَ أَوْ يَمِينُهُ " ، فَقُلْتُ : إِذًا يَحْلِفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ وَهْوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانٌ " .
مولانا داود راز
´ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے اس لیے قسم کھائی کہ کسی مسلمان کا مال ( جھوٹ بول کر وہ ) مار لے تو جب وہ اللہ سے ملے گا ، اللہ تعالیٰ اس پر نہایت ہی غصہ ہو گا ، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کے اس فرمان کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا أولئك لا خلاق لهم في الآخرة» ” بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچتے ہیں ، یہ وہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں کوئی بھلائی نہیں ہے ۔ “ آخر آیت تک ۔ ابووائل نے بیان کیا کہ اشعث بن قیس کندی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور پوچھا : ابوعبدالرحمٰن ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے آپ لوگوں سے کوئی حدیث بیان کی ہے ؟ ہم نے بتایا کہ ہاں ، اس اس طرح سے حدیث بیان کی ہے ۔ اشعث رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ یہ آیت تو میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی ۔ میرے ایک چچا کے بیٹے کی زمین میں میرا ایک کنواں تھا ( ہم دونوں کا اس بارے میں جھگڑا ہوا اور مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا تو ) آپ نے مجھ سے فرمایا کہ تو گواہ پیش کر یا پھر اس کی قسم پر فیصلہ ہو گا ۔ میں نے کہا پھر تو یا رسول اللہ وہ ( جھوٹی ) قسم کھا لے گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جھوٹی قسم اس لیے کھائے کہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال لے اور اس کی نیت بری ہو تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ اس پر نہایت ہی غضبناک ہو گا ۔
حدیث نمبر: 4551
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ أَبِي هَاشِمٍ ، سَمِعَ هُشَيْمًا ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : " أَنَّ رَجُلًا أَقَامَ سِلْعَةً فِي السُّوقِ فَحَلَفَ فِيهَا ، لَقَدْ أَعْطَى بِهَا مَا لَمْ يُعْطِهِ لِيُوقِعَ فِيهَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَنَزَلَتْ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے علی بن ابی ہاشم نے بیان کیا ، انہوں نے ہشیم سے سنا ، انہوں نے کہا ہم کو عوام بن حوشب نے خبر دی ، انہیں ابراہیم بن عبدالرحمٰن نے اور انہیں عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہ` ایک شخص نے بازار میں سامان بیچتے ہوئے قسم کھائی کہ فلاں شخص اس سامان کا اتنا روپیہ دے رہا تھا ، حالانکہ کسی نے اتنی قیمت نہیں لگائی تھی ، بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ اس طرح کسی مسلمان کو وہ دھوکا دے کر اسے ٹھگ لے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» کہ ” بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچتے ہیں ۔ “ آخر آیت تک ۔
حدیث نمبر: 4552
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ : أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَخْرِزَانِ فِي بَيْتٍ أَوْ فِي الْحُجْرَةِ ، فَخَرَجَتْ إِحْدَاهُمَا وَقَدْ أُنْفِذَ بِإِشْفَى فِي كَفِّهَا فَادَّعَتْ عَلَى الْأُخْرَى ، فَرُفِعَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ ، لذَهَبَ دِمَاءُ قَوْمٍ وَأَمْوَالُهُمْ ذَكِّرُوهَا بِاللَّهِ ، وَاقْرَءُوا عَلَيْهَا إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ سورة آل عمران آية 77فَذَكَّرُوهَا فَاعْتَرَفَتْ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے نصر بن علی بن نصر نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن داؤد نے بیان کیا ، ان سے ابن جریج نے ، ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ` دو عورتیں کسی گھر یا حجرہ میں بیٹھ کر موزے بنایا کرتی تھیں ۔ ان میں سے ایک عورت باہر نکلی اس کے ہاتھ میں موزے سینے کا سوا چبھو دیا گیا تھا ۔ اس نے دوسری عورت پر دعویٰ کیا ۔ یہ مقدمہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر صرف دعویٰ کی وجہ سے لوگوں کا مطالبہ مان لیا جانے لگے تو بہت سوں کا خون اور مال برباد ہو جائے گا ۔ جب گواہ نہیں ہے تو دوسری عورت کو جس پر یہ الزام ہے ، اللہ سے ڈراؤ اور اس کے سامنے یہ آیت پڑھو «إن الذين يشترون بعهد الله» چنانچہ جب لوگوں نے اسے اللہ سے ڈرایا تو اس نے اقرار کر لیا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ، قسم مدعیٰ علیہ پر ہے ۔ اگر وہ جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال ہڑپ کرے گا تو اس کو اس وعید کا مصداق قرار دیا جائے گا جو آیت میں بیان کی گئی ہے ۔