کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: سورۃ آل عمران کی تفسیر۔
حدیث نمبر: Q4547-2
تُقَاةٌ وَتَقِيَّةٌ وَاحِدَةٌ صِرٌّ بَرْدٌ شَفَا حُفْرَةٍ : مِثْلُ شَفَا الرَّكِيَّةِ وَهْوَ حَرْفُهَا ، تُبَوِّئُ : تَتَّخِذُ مُعَسْكَرًا الْمُسَوَّمُ الَّذِي لَهُ سِيمَاءٌ بِعَلَامَةٍ أَوْ بِصُوفَةٍ أَوْ بِمَا كَانَ ، رِبِّيُّونَ : الْجَمِيعُ وَالْوَاحِدُ رِبِّيٌّ ، تَحُسُّونَهُمْ : تَسْتَأْصِلُونَهُمْ قَتْلًا ، غُزًّا : وَاحِدُهَا غَازٍ ، نَكْتُبُ : سَنَحْفَظُ ، نُزُلًا : ثَوَابًا وَيَجُوزُ وَمُنْزَلٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ كَقَوْلِكَ أَنْزَلْتُهُ. وَقَالَ مُجَاهِدٌ : وَالْخَيْلُ الْمُسَوَّمَةُ الْمُطَهَّمَةُ الْحِسَانُ ، قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى : الرَّاعِيَةُ الْمُسَوَّمَةُ ، وَقَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ : وَحَصُورًا : لَا يَأْتِي النِّسَاءَ ، وَقَالَ عِكْرِمَةُ : مِنْ فَوْرِهِمْ : مِنْ غَضَبِهِمْ يَوْمَ بَدْرٍ ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ : يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ مِنَ النُّطْفَةِ تَخْرُجُ مَيِّتَةً وَيُخْرِجُ مِنْهَا الْحَيَّ الْإِبْكَارُ أَوَّلُ الْفَجْرِ وَالْعَشِيُّ مَيْلُ الشَّمْسِ أُرَاهُ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ الفاظ «تقاة» «وتقية» دونوں کا معنی ایک ہے یعنی بچاؤ کرنا ۔ «صر‏» کا معنی «برد» یعنی سرد ٹھنڈک ۔ «شفا حفرة» کا معنی گڑھے کا کنارہ ، جیسے کچے کنویں کا کنارہ ہوتا ہے ۔ «تبوئ‏» یعنی تو لشکر کے مقامات ، پڑاؤ تجویز کرتا تھا ، مورچے بنانا مراد ہیں ۔ «مسومين» «مسوم» اس کو کہتے ہیں جس پر کوئی نشانی ہو ، مثلاً پشم یا اور کوئی نشانی ۔ «ربيون‏» جمع ہے اس کا واحد «ربي» ہے یعنی اللہ والا ۔ «تحسونهم‏» ان کو قتل کر کے جڑ پیڑ سے اکھاڑتے ہو ۔ «غزا‏» لفظ «غازى» کی جمع ہے یعنی جہاد کرنے والا ۔ «سنكتب‏» کا معنی ہم کو یاد رہے گا ۔ «نزلا‏» کا معنی ثواب کے ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لفظ «نزلا‏» اسم مفعول کے معنی میں ہو یعنی اللہ کی طرف سے اتارا گیا جیسے کہتے ہیں «أنزلته‏» میں نے اس کو اتارا ۔ مجاہد نے کہا «والخيل المسومة» کا معنی موٹے موٹے اچھے اچھے گھوڑے اور سعید بن جبیر نے کہا «حصورا‏» اس شخص کو کہتے ہیں جو عورتوں کی طرف مطلق مائل نہ ہو ۔ عکرمہ نے کہا «من فورهم‏» کا معنی بدر کے دن غصے اور جوش سے ۔ مجاہد نے کہا «يخرج الحى‏» یعنی نطفہ بے جان ہوتا ہے اس سے جاندار پیدا ہوتا ہے ۔ «إبكار » صبح سویرے ۔ «عشي» کے معنی سورج ڈھلے سے ڈوبنے تک جو وقت ہوتا ہے اسے «عشي» کہتے ہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4547-2