کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: آیت کی تفسیر ”اگر مقروض تنگ دست ہے تو اس کے لیے آسانی مہیا ہونے تک مہلت دینا بہتر ہے اور اگر تم اس کا قرض معاف ہی کر دو تو تمہارے حق میں یہ اور بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو“۔
حدیث نمبر: 4543
وقَالَ لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي الضُّحَى , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " لَمَّا أُنْزِلَتِ الْآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهُنَّ عَلَيْنَا ، ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ " .
مولانا داود راز
´اور ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا ، ان سے سفیان ثوری نے ، ان سے منصور اور اعمش نے ، ان سے ابوالضحیٰ نے ، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` جب سورۃ البقرہ کی آخری آیات نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہمیں پڑھ کر سنایا پھر شراب کی تجارت حرام کر دی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4543
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة