کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: آیت «فأذنوا بحرب» کی تفسیر لفظ «فأذنوا» بمعنی «‏‏‏‏فاعلموا» ہے یعنی جان لو، آگاہ ہو جاؤ۔
حدیث نمبر: 4542
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَمَّا أُنْزِلَتِ الْآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ قَرَأَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فِي الْمَسْجِدِ وَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ " .
مولانا داود راز
´مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، ان سے ابوالضحیٰ نے ، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` جب سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجد میں پڑھ کر سنایا اور شراب کی تجارت حرام قرار دی گئی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4542
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة