کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت کی تفسیر ”اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے“ لفظ «يمحق» بمعنی «يذهبه» کے ہے یعنی مٹا دیتا ہے اور دور کر دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 4541
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ , سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى يُحَدِّثُ ، عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : " لَمَّا أُنْزِلَتِ الْآيَاتُ الْأَوَاخِرُ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَاهُنَّ فِي الْمَسْجِدِ ، فَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی ، انہیں شعبہ نے ، انہیں سلیمان اعمش نے ، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوالضحیٰ سے سنا ، وہ مسروق سے روایت کرتے تھے کہ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا` جب سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور مسجد میں انہیں پڑھ کر سنایا اس کے بعد شراب کی تجارت حرام ہو گئی ۔