کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: آیت کی تفسیر ”اس وقت کو یاد کرو، جب ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا کہ اے میرے رب! مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا“۔
حدیث نمبر: 4537
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي يُونُسُ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَسَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ : رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي سورة البقرة آية 260 .
مولانا داود راز
´ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا ، ان سے ابن وہب نے بیان کیا ، انہیں یونس نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، انہیں ابوسلمہ اور سعید نے ، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” شک کرنے کا ہمیں ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ حق ہے ، جب انہوں نے عرض کیا تھا کہ اے میرے رب ! مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا ، اللہ کی طرف سے ارشاد ہوا ، کیا تجھ کو یقین نہیں ہے ؟ عرض کی یقین ضرور ہے ، لیکن میں نے یہ درخواست اس لیے کی ہے کہ میرے دل کو اور اطمینان حاصل ہو جائے ۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4537
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة