کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: آیت «وقوموا لله قانتين» کی تفسیر «قانتين» بمعنی «مطيعين» یعنی فرمانبردار۔
حدیث نمبر: 4534
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ , عَنْ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ , عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ , قَالَ : " كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ يُكَلِّمُ أَحَدُنَا أَخَاهُ فِي حَاجَتِهِ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ سورة البقرة آية 238 ، فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے ، ان سے حارث بن شبل نے ، ان سے ابوعمرو شیبانی نے اور ان سے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` پہلے ہم نماز پڑھتے ہوئے بات بھی کر لیا کرتے تھے ، کوئی بھی شخص اپنے دوسرے بھائی سے اپنی کسی ضرورت کے لیے بات کر لیتا تھا ۔ یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين‏» ” سب ہی نمازوں کی پابندی رکھو اور خاص طور پر بیچ والی نماز کی اور اللہ کے سامنے فرماں برداروں کی طرح کھڑے ہوا کرو ۔ “ اس آیت کے ذریعہ ہمیں نماز میں چپ رہنے کا حکم دیا گیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4534
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة