کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: آیت کی تفسیر ”کیا تم یہ گمان رکھتے ہو کہ جنت میں داخل ہو جاؤ گے، حالانکہ ابھی تم کو ان لوگوں جیسے حالات پیش نہیں آئے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں، انہیں تنگی اور سختی پیش آئی“ آخر آیت «قريب» تک۔
حدیث نمبر: 4524
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يَقُولُ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا سورة يوسف آية 110 خَفِيفَةً ذَهَبَ بِهَا هُنَاكَ وَتَلَا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ سورة البقرة آية 214 فَلَقِيتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ , فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ .
مولانا داود راز
´ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی ، ان سے ابن جریج نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا ، بیان کیا کہ` ابن عباس رضی اللہ عنہما سورۃ یوسف کی آیت «حتى إذا استيأس الرسل وظنوا أنهم قد كذبوا» ( میں «كذبوا» کو ذال کی ) تخفیف کے ساتھ قرآت کیا کرتے تھے ۔ آیت کا جو مفہوم وہ مراد لے سکتے تھے لیا ، اس کے بعد یوں تلاوت کرتے «حتى يقول الرسول والذين آمنوا معه متى نصر الله ألا إن نصر الله قريب» پھر میری ملاقات عروہ بن زبیر سے ہوئی ، تو میں نے ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر کا ذکر کیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4524
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4525
فَقَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : مَعَاذَ اللَّهِ , وَاللَّهِ مَا وَعَدَ اللَّهُ رَسُولَهُ مِنْ شَيْءٍ قَطُّ ، إِلَّا عَلِمَ أَنَّهُ كَائِنٌ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ ، وَلَكِنْ لَمْ يَزَلِ الْبَلَاءُ بِالرُّسُلِ حَتَّى خَافُوا أَنْ يَكُونَ مَنْ مَعَهُمْ يُكَذِّبُونَهُمْ ، فَكَانَتْ تَقْرَؤُهَا وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا سورة يوسف آية 110 مُثَقَّلَةً " .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ انھوں نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا تو کہتی تھیں اللہ کی پناہ ! پیغمبر ، تو جو وعدہ اللہ نے ان سے کیا ہے اس کو سمجھتے ہیں کہ وہ مرنے سے پہلے ضرور پورا ہو گا ۔ بات یہ کہ ہے پیغمبروں کی آزمائش برابر ہوتی رہی ہے ۔ ( مدد آنے میں اتنی دیر ہوئی ) کہ پیغمبر ڈر گئے ۔ ایسا نہ ہو ان کی امت کے لوگ ان کو جھوٹا سمجھ لیں تو عائشہ رضی اللہ عنہا اس آیت سورۃ یوسف ) کو یوں پڑھتی تھیں «وظنوا أنهم قد كذبوا‏» ( ذال کی تشدید کے ساتھ ) ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4525
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة