کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: آیت «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 4519
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ , قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ عَمْرٍو , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : " كَانَتْ عُكَاظُ , وَمَجَنَّةُ , وَذُو الْمَجَازِ أَسْوَاقًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَتَأَثَّمُوا أَنْ يَتَّجِرُوا فِي الْمَوَاسِمِ ، فَنَزَلَتْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ سورة البقرة آية 198 فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ " .
مولانا داود راز
´مجھ سے محمد نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے ابن عیینہ نے خبر دی ، انہیں عمرو نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` عکاظ ، مجنہ اور ذوالمجاز زمانہ جاہلیت کے بازار ( میلے ) تھے ، اس لیے ( اسلام کے بعد ) موسم حج میں صحابہ رضی اللہ عنہم نے وہاں کاروبار کو برا سمجھا تو آیت نازل ہوئی «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم‏» کہ ” تمہیں اس بارے میں کوئی حرج نہیں کہ تم اپنے پروردگار کے یہاں سے تلاش معاش کرو ۔ “ یعنی موسم حج میں تجارت کے لیے مذکورہ منڈیوں میں جاؤ ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4519
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة