حدیث نمبر: Q4474
وَسُمِّيَتْ أُمَّ الْكِتَابِ أَنَّهُ يُبْدَأُ بِكِتَابَتِهَا فِي الْمَصَاحِفِ وَيُبْدَأُ بِقِرَاءَتِهَا فِي الصَّلَاةِ ، وَالدِّينُ الْجَزَاءُ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ كَمَا تَدِينُ تُدَانُ ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ : بِالدِّينِ بِالْحِسَابِ مَدِينِينَ مُحَاسَبِينَ .
مولانا داود راز
«أم» ، ماں کو کہتے ہیں ۔ «أم الكتاب» اس سورۃ کا نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ قرآن مجید میں اسی سے کتابت کی ابتداء ہوتی ہے ۔ ( اسی لیے اسے «فاتحة الكتاب» بھی کہا گیا ہے ) اور نماز میں بھی قرآت اسی سے شروع کی جاتی ہے اور «الدين» بدلہ کے معنی میں ہے ۔ خواہ اچھائی میں ہو یا برائی میں جیسا کہ ( بولتے ہیں ) «كما تدين تدان.» ( جیسا کرو گے ویسا بھرو گے ) ۔ مجاہد نے کہا کہ «الدين» حساب کے معنیٰ میں ہے جبکہ «مدينين» بمعنیٰ «محاسبين» ہے یعنی حساب کئے گئے ۔
حدیث نمبر: 4474
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ شُعْبَةَ , قَالَ : حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى ، قَالَ : كُنْتُ أُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أُجِبْهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي ، فَقَالَ : " أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ سورة الأنفال آية 24 ، ثُمَّ قَالَ لِي : " لَأُعَلِّمَنَّكَ سُورَةً هِيَ أَعْظَمُ السُّوَرِ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ " ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ ، قُلْتُ لَهُ : أَلَمْ تَقُلْ لَأُعَلِّمَنَّكَ سُورَةً هِيَ أَعْظَمُ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ ؟ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي ، وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا کہ مجھ سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسی حالت میں بلایا ، میں نے کوئی جواب نہیں دیا ( پھر بعد میں ، میں نے حاضر ہو کر ) عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں نماز پڑھ رہا تھا ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے تم سے نہیں فرمایا ہے «استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم» ” اللہ اور اس کے رسول جب تمہیں بلائیں تو ہاں میں جواب دو ۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ آج میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے ایک ایسی سورت کی تعلیم دوں گا جو قرآن کی سب سے بڑی سورت ہے ۔ پھر آپ نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور جب آپ باہر نکلنے لگے تو میں نے یاد دلایا کہ آپ نے مجھے قرآن کی سب سے بڑی سورت بتانے کا وعدہ کیا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «الحمد لله رب العالمين» یہی وہ سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے ۔