مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 4470
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ , قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ , قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , عَنْ ابْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ الصُّنَابِحِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ لَهُ : " مَتَى هَاجَرْتَ ؟ قَالَ : خَرَجْنَا مِنْ الْيَمَنِ مُهَاجِرِينَ فَقَدِمْنَا الْجُحْفَةَ ، فَأَقْبَلَ رَاكِبٌ فَقُلْتُ لَهُ الْخَبَرَ ، فَقَالَ : دَفَنَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ خَمْسٍ ، قُلْتُ : هَلْ سَمِعْتَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ شَيْئًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَخْبَرَنِي بِلَالٌ مُؤَذِّنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ فِي السَّبْعِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی ، کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی ، انہیں عمرو بن ابی حبیب نے ، ان سے ابوالخیر نے عبدالرحمٰن بن عسیلہ صنابحی سے ، جناب ابوالخیر نے ان سے پوچھا تھا کہ` تم نے کب ہجرت کی تھی ؟ انہوں نے بیان کیا کہ ہم ہجرت کے ارادے سے یمن چلے ، ابھی ہم مقام جحفہ میں پہنچے تھے کہ ایک سوار سے ہماری ملاقات ہوئی ۔ ہم نے ان سے مدینہ کی خبر پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کو پانچ دن ہو چکے ہیں میں نے پوچھا تم نے لیلۃ القدر کے بارے میں کوئی حدیث سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن بلال رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی ہے کہ لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرہ کے سات دنوں میں ( ایک طاق رات ) ہوتی ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4470
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔