مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلمہ جو زبان مبارک سے نکلا۔
حدیث نمبر: 4463
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ , قَالَ يُونُسُ : قَالَ الزُّهْرِيُّ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ , فِي رِجَالٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ صَحِيحٌ : " إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرَ " ، فَلَمَّا نَزَلَ بِهِ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِي غُشِيَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَفَاقَ ، فَأَشْخَصَ بَصَرَهُ إِلَى سَقْفِ الْبَيْتِ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى " فَقُلْتُ : إِذًا لَا يَخْتَارُنَا وَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَدِيثُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا وَهُوَ صَحِيحٌ ، قَالَتْ : فَكَانَتْ آخِرَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا : " اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى " .
مولانا داود راز
´ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا ، ان سے یونس نے بیان کیا ، ان سے زہری نے بیان کیا ، انہیں سعید بن مسیب نے کئی اہل علم کی موجودگی میں خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حالت صحت میں فرمایا کرتے تھے کہ ہر نبی کی روح قبض کرنے سے پہلے انہیں جنت میں ان کی قیام گاہ دکھائی گئی ، پھر اختیار دیا گیا ۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور آپ کا سر مبارک میری ران پر تھا ۔ اس وقت آپ پر غشی طاری ہو گئی ۔ جب ہوش میں آئے تو آپ نے اپنی نظر گھر کی چھت کی طرف اٹھا لی اور فرمایا «اللهم الرفيق الأعلى» ” اے اللہ ! مجھے اپنی بارگاہ میں انبیاء اور صدیقین سے ملا دے ۔ “ میں اسی وقت سمجھ گئی کہ اب آپ ہمیں پسند نہیں کر سکتے اور مجھے وہ حدیث یاد آ گئی جو آپ حالت صحت میں ہم سے بیان کیا کرتے تھے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آخری کلمہ جو زبان مبارک سے نکلا وہ یہی تھا کہ «اللهم الرفيق الأعلى» ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4463
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔