حدیث نمبر: 4394
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : أَتَيْنَا عُمَرَ فِي وَفْدٍ ، فَجَعَلَ يَدْعُو رَجُلًا رَجُلًا وَيُسَمِّيهِمْ ، فَقُلْتُ : أَمَا تَعْرِفُنِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ " قَالَ : " بَلَى ، أَسْلَمْتَ إِذْ كَفَرُوا ، وَأَقْبَلْتَ إِذْ أَدْبَرُوا ، وَوَفَيْتَ إِذْ غَدَرُوا ، وَعَرَفْتَ إِذْ أَنْكَرُوا " ، فَقَالَ عَدِيٌّ : " فَلَا أُبَالِي إِذًا " .
مولانا داود راز
´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن حریث نے اور ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ہم عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ( ان کی دور خلافت میں ) ایک وفد کی شکل میں آئے ۔ وہ ایک ایک شخص کو نام لے لے کر بلاتے جاتے تھے ) میں نے ان سے کہا کیا آپ مجھے پہچانتے نہیں ؟ اے امیرالمؤمنین ! فرمایا کیا تمہیں بھی نہیں پہچانوں گا ، تم اس وقت اسلام لائے جب یہ سب کفر پر قائم تھے ۔ تم نے اس وقت توجہ کی جب یہ سب منہ موڑ رہے تھے ۔ تم نے اس وقت وفا کی جب یہ سب بے وفائی کر رہے تھے اور اس وقت پہچانا جب ان سب نے انکار کیا تھا ۔ عدی رضی اللہ عنہ نے کہا بس اب مجھے کوئی پرواہ نہیں ۔