مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: قبیلہ دوس اور طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4392
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ دَوْسًا قَدْ هَلَكَتْ عَصَتْ وَأَبَتْ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهِمْ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن ذکوان نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ قبیلہ دوس تو تباہ ہوا ۔ اس نے نافرمانی اور انکار کیا ( اسلام قبول نہیں کیا ) آپ اللہ سے ان کے لیے دعا کیجئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اے اللہ ! قبیلہ دوس کو ہدایت دے اور انہیں میرے یہاں لے آ ۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4392
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4393
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ فِي الطَّرِيقِ : يَا لَيْلَةً مِنْ طُولِهَا وَعَنَائِهَا عَلَى أَنَّهَا مِنْ دَارَةِ الْكُفْرِ نَجَّتِ وَأَبَقَ غُلَامٌ لِي فِي الطَّرِيقِ فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ ، فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ إِذْ طَلَعَ الْغُلَامُ ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، هَذَا غُلَامُكَ ؟ " فَقُلْتُ : هُوَ لِوَجْهِ اللَّهِ ، فَأَعْتَقْتُهُ .
مولانا داود راز
´مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا ، ان سے قیس نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` جب میں اپنے وطن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے چلا تو راستے میں ، میں نے یہ شعر پڑھا ( ترجمہ ) ” کیسی ہے تکلیف کی لمبی یہ رات ، خیر اس نے کفر سے دی ہے نجات “ اور میرا غلام راستے میں بھاگ گیا تھا ، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے بیعت کی ، ابھی آپ کے پاس میں بیٹھا ہی ہوا تھا کہ وہ غلام دکھائی دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ابوہریرہ ! یہ ہے تمہارا غلام ! میں نے کہا اللہ کے لیے میں نے اس کو اب آزاد کر دیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4393
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔