حدیث نمبر: 4365
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَتَى نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا ، فَرُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ، فَجَاءَ نَفَرٌ مِنْ الْيَمَنِ ، فَقَالَ : " اقْبَلُوا الْبُشْرَى ، إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ " ، قَالُوا : قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ .
مولانا داود راز
´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ان سے ابوصخرہ نے ، ان سے صفوان بن محرز مازنی نے اور ان سے عمران بن حصین نے بیان کیا کہ` بنو تمیم کے چند لوگوں کا ( ایک وفد ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ” اے بنو تمیم ! بشارت قبول کرو ۔ “ وہ کہنے لگے کہ بشارت تو آپ ہمیں دے چکے ، کچھ مال بھی دیجئیے ۔ ان کے اس جواب پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناگواری کا اثر دیکھا گیا ، پھر یمن کے چند لوگوں کا ایک ( وفد ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بنو تمیم نے بشارت نہیں قبول کی ، تم قبول کر لو ۔ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم کو بشارت قبول ہے ۔