مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: غزوہ ذات السلاسل کا بیان۔
حدیث نمبر: Q4358
وَهِيَ غَزْوَةُ لَخْمٍ وَجُذَامَ ، قَالَهُ : إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ عُرْوَةَ : هِيَ بِلَادُ بَلِيٍّ ، وَعُذْرَةَ ، وَبَنِي الْقَيْنِ
مولانا داود راز
‏‏‏‏ یہ وہ غزوہ ہے جو قبائل لخم و جذام کے ساتھ پیش آیا تھا ۔ اسے اسماعیل بن خالد نے کہا ہے اور ابن اسحاق نے بیان کیا ان سے یزید نے اور ان سے عروہ نے کہ ذات السلاسل ، قبائل بلی ، عذرہ اور بنی القین کو کہتے ہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: Q4358
حدیث نمبر: 4358
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السُّلَاسِلِ ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : " عَائِشَةُ " ، قُلْتُ : مِنَ الرِّجَالِ ؟ قَالَ : " أَبُوهَا " ، قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " عُمَرُ " ، فَعَدَّ رِجَالًا فَسَكَتُّ مَخَافَةَ أَنْ يَجْعَلَنِي فِي آخِرِهِمْ .
مولانا داود راز
´ہم سے اسحاق بن شاہین نے بیان کیا ، کہا ہم کو خالد بن عبداللہ نے خبر دی ، انہیں خالد حذاء نے ، انہیں ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو غزوہ ذات السلاسل کے لیے امیر لشکر بنا کر بھیجا ۔ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( غزوہ سے واپس آ کر ) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے پوچھا کہ آپ کو سب سے زیادہ عزیز کون شخص ہے ؟ فرمایا کہ عائشہ ، میں نے پوچھا اور مردوں میں ؟ فرمایا کہ اس کے والد ، میں نے پوچھا ، اس کے بعد کون ؟ فرمایا کہ عمر ۔ اس طرح آپ نے کئی آدمیوں کے نام لیے بس میں خاموش ہو گیا کہ کہیں آپ مجھے سب سے بعد میں نہ کر دیں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4358
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔