مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو حرقات کے مقابلہ پر بھیجنا۔
حدیث نمبر: 4269
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو ظَبْيَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحُرَقَةِ ، فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ ، وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ رَجُلًا مِنْهُمْ ، فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَكَفَّ الْأَنْصَارِيُّ فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّى قَتَلْتُهُ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " يَا أُسَامَةُ ، أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ " ، قُلْتُ : كَانَ مُتَعَوِّذًا فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ .
مولانا داود راز
´مجھ سے عمرو بن محمد بغدادی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ‘ انہیں حصین نے خبر دی ‘ انہیں ابوظبیان حصین بن جندب نے ‘ کہا کہ میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ` ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ حرقہ کی طرف بھیجا ۔ ہم نے صبح کے وقت ان پر حملہ کیا اور انہیں شکست دے دی ‘ پھر میں اور ایک اور انصاری صحابی اس قبیلہ کے ایک شخص ( مرداس بن عمر نامی ) سے بھڑ گئے ۔ جب ہم نے اس پر غلبہ پا لیا تو وہ لا الہٰ الا اللہ کہنے لگا ۔ انصاری تو فوراً ہی رک گیا لیکن میں نے اسے اپنے برچھے سے قتل کر دیا ۔ جب ہم لوٹے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کی خبر ہوئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اسامہ کیا اس کے لا الہٰ الا اللہ کہنے کے باوجود تم نے اسے قتل کر دیا ؟ میں نے عرض کیا کہ وہ قتل سے بچنا چاہتا تھا ( اس نے یہ کلمہ دل سے نہیں پڑھا تھا ) ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باربار یہی فرماتے رہے ( کیا تم نے اس کے لا الہٰ الا اللہ کہنے پر بھی اسے قتل کر دیا ) کہ میرے دل میں یہ آرزو پیدا ہوئی کہ کاش میں آج سے پہلے اسلام نہ لاتا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4269
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4270
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ ، يَقُولُ : " غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ ، وَخَرَجْتُ فِيمَا يَبْعَثُ مِنَ الْبُعُوثِ تِسْعَ غَزَوَاتٍ ، مَرَّةً عَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ ، وَمَرَّةً عَلَيْنَا أُسَامَةُ " ،
مولانا داود راز
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا اور انہوں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ` میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات غزووں میں شریک رہا ہوں اور نو ایسے لشکروں میں شریک ہوا ہوں جو آپ نے روانہ کئے تھے ۔ ( مگر آپ خود ان میں نہیں گئے ) کبھی ہم پر ابوبکر رضی اللہ عنہ امیر ہوئے اور کسی فوج کے امیر اسامہ رضی اللہ عنہ ہوئے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4270
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4271
وَقَالَ عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَلَمَةَ , يَقُولُ : " غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ ، وَخَرَجْتُ فِيمَا يَبْعَثُ مِنَ الْبَعْثِ تِسْعَ غَزَوَاتٍ عَلَيْنَا ، مَرَّةً أَبُو بَكْرٍ ، وَمَرَّةً أُسَامَةُ " .
مولانا داود راز
´اور عمر بن حفص بن غیاث نے ( جو امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ ہیں ) بیان کیا کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا اور انہوں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ` میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزووں میں شریک رہا ہوں اور نو ایسی لڑائیوں میں گیا ہوں جن کو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا ۔ کبھی ہمارے امیر ابوبکر رضی اللہ عنہ ہوتے اور کبھی اسامہ رضی اللہ عنہ ہوتے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4271
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4272
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ ، وَغَزَوْتُ مَعَ ابْنِ حَارِثَةَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَيْنَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوعاصم الضحاک بن مخلد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا ‘ ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزووں میں شریک رہا ہوں اور میں نے ابن حارثہ ( یعنی اسامہ رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ بھی غزوہ کیا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہم پر امیر بنایا تھا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4272
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4273
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَ : " غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ ، فَذَكَرَ : خَيْبَرَ ، وَالْحُدَيْبِيَةَ ، وَيَوْمَ حُنَيْنٍ ، وَيَوْمَ الْقَرَدِ " ، قَالَ يَزِيدُ : " وَنَسِيتُ بَقِيَّتَهُمْ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن مسعدہ نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہ` میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوے کئے ۔ اس سلسلہ میں انہوں نے غزوہ خیبر ‘ غزوہ حدیبیہ ‘ غزوہ حنین اور غزوہ ذات القرد کا ذکر کیا ۔ یزید نے کہا کہ باقی غزووں کے نام میں بھول گیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4273
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔