مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: غزوہ خندق کا بیان جس کا دوسرا نام غزوہ احزاب ہے۔
حدیث نمبر: Q4097
قَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ : كَانَتْ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ أَرْبَعٍ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ غزوہ خندق شوال 4 ھ میں ہوا تھا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: Q4097
حدیث نمبر: 4097
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَلَمْ يُجِزْهُ , وَعَرَضَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ عمری نے ، کہا کہ مجھے نافع نے خبر دی اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے آپ کو انہوں نے غزوہ احد کے موقع پر پیش کیا ( تاکہ لڑنے والوں میں انہیں بھی بھرتی کر لیا جائے ) اس وقت وہ چودہ سال کے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت نہیں دی ۔ لیکن غزوہ خندق کے موقع پر جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے کو پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منظور فرما لیا ۔ اس وقت وہ پندرہ سال کی عمر کے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4097
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4098
حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَنْدَقِ , وَهُمْ يَحْفِرُونَ وَنَحْنُ نَنْقُلُ التُّرَابَ عَلَى أَكْتَادِنَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خندق میں تھے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم خندق کھود رہے تھے اور مٹی ہم اپنے کاندھوں پر اٹھا اٹھا کر نکال رہے تھے ۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فاغفر للمهاجرين والأنصار» ” اے اللہ ! آخرت کی زندگی ہی بس آرام کی زندگی ہے ۔ پس تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما ۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4098
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4099
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ , عَنْ حُمَيْدٍ , سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , يَقُولُ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْخَنْدَقِ فَإِذَا الْمُهَاجِرُونَ , وَالْأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ , فَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ عَبِيدٌ يَعْمَلُونَ ذَلِكَ لَهُمْ , فَلَمَّا رَأَى مَا بِهِمْ مِنَ النَّصَبِ وَالْجُوعِ , قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ " , فَقَالُوا مُجِيبِينَ لَهُ : نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدَا .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا ، ان سے ابواسحاق فزاری نے بیان کیا ، ان سے حمید طویل نے ، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق کی طرف تشریف لے گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاحظہ فرمایا کہ مہاجرین اور انصار سردی میں صبح سویرے ہی خندق کھود رہے ہیں ۔ ان کے پاس غلام نہیں تھے کہ ان کے بجائے وہ اس کام کو انجام دیتے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس مشقت اور بھوک کو دیکھا تو دعا کی «اللهم إن العيش عيش الآخرة. فاغفر للأنصار والمهاجره» ” اے اللہ ! زندگی تو بس آخرت ہی کی زندگی ہے ۔ پس انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما ۔ “ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کے جواب میں کہا «نحن الذين بايعوا محمدا *** على الجهاد ما بقينا أبدا» ہم ہی ہیں جنہوں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے جہاد کرنے کے لیے بیعت کی ہے ۔ جب تک ہماری جان میں جان ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4099
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4100
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ , عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : جَعَلَ المُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ يَحِفْرُونَ الَخْندَقَ حَوْلَ الَمَدِيِنَةِ , وَيَنْقلُونَ التُّرَابَ عَلى مُتونِهمْ وَهُمْ يَقُولونَ : نَحْنُ الًّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الإِسْلامِ مَا بَقِينَا أَبَدَا قَالَ : يَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُجِيبُهُمْ : " اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ فَبَارِكْ فِي الْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ , قَالَ : يُؤْتَوْنَ بِمِلْءِ كَفِّي مِنَ الشَّعِيرِ فَيُصْنَعُ لَهُمْ بِإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ تُوضَعُ بَيْنَ يَدَيِ الْقَوْمِ , وَالْقَوْمُ جِيَاعٌ وَهِيَ بَشِعَةٌ فِي الْحَلْقِ وَلَهَا رِيحٌ مُنْتِنٌ .
مولانا داود راز
´ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمر عقدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا ، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` مدینہ کے گرد مہاجرین و انصار خندق کھودنے میں مصروف ہو گئے اور مٹی اپنی پیٹھ پر اٹھانے لگے ۔ اس وقت وہ یہ شعر پڑھ رہے تھے «نحن الذين بايعوا محمدا *** على الأسلام ما بقينا أبدا» ہم نے ہی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے اسلام پر بیعت کی ہے جب تک ہماری جان میں جان ہے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی «اللهم إنه لا خير إلا خير الآخرة. فبارك في الأنصار والمهاجره» ” اے اللہ ! خیر تو صرف آخرت ہی کی خیر ہے ۔ پس انصار اور مہاجرین کو تو برکت عطا فرما ۔ “ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک مٹھی جَو آتا اور ان صحابہ کے لیے ایسے روغن میں جس کا مزہ بھی بگڑ چکا ہوتا ملا کر پکا دیا جاتا ۔ یہی کھانا ان صحابہ کے سامنے رکھ دیا جاتا ۔ صحابہ بھوکے ہوتے ۔ یہ ان کے حلق میں چپکتا اور اس میں بدبو ہوتی ۔ گویا اس وقت ان کی خوراک کا بھی یہ حال تھا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4100
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4101
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : أَتَيْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَقَالَ : " إِنَّا يَوْمَ الْخَنْدَقِ نَحْفِرُ فَعَرَضَتْ كُدْيَةٌ شَدِيدَةٌ , فَجَاءُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا : هَذِهِ كُدْيَةٌ عَرَضَتْ فِي الْخَنْدَقِ , فَقَالَ : " أَنَا نَازِلٌ " , ثُمَّ قَامَ وَبَطْنُهُ مَعْصُوبٌ بِحَجَرٍ , وَلَبِثْنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ لَا نَذُوقُ ذَوَاقًا , فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِعْوَلَ فَضَرَبَ , فَعَادَ كَثِيبًا أَهْيَلَ أَوْ أَهْيَمَ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي إِلَى الْبَيْتِ , فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي : رَأَيْتُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مَا كَانَ فِي ذَلِكَ صَبْرٌ , فَعِنْدَكِ شَيْءٌ , قَالَتْ : عِنْدِي شَعِيرٌ وَعَنَاقٌ , فَذَبَحَتِ الْعَنَاقَ وَطَحَنَتِ الشَّعِيرَ حَتَّى جَعَلْنَا اللَّحْمَ فِي الْبُرْمَةِ , ثُمَّ جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْعَجِينُ قَدِ انْكَسَرَ وَالْبُرْمَةُ بَيْنَ الْأَثَافِيِّ قَدْ كَادَتْ أَنْ تَنْضَجَ , فَقُلْتُ : طُعَيِّمٌ لِي فَقُمْ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرَجُلٌ أَوْ رَجُلَانِ , قَالَ : " كَمْ هُوَ " , فَذَكَرْتُ لَهُ , قَالَ : " كَثِيرٌ طَيِّبٌ " , قَالَ : " قُلْ لَهَا لَا تَنْزِعِ الْبُرْمَةَ وَلَا الْخُبْزَ مِنَ التَّنُّورِ حَتَّى آتِيَ " , فَقَالَ : قُومُوا فَقَامَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ , فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى امْرَأَتِهِ قَالَ : وَيْحَكِ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَمَنْ مَعَهُمْ , قَالَتْ : هَلْ سَأَلَكَ , قُلْتُ : نَعَمْ , فَقَالَ : " ادْخُلُوا وَلَا تَضَاغَطُوا فَجَعَلَ يَكْسِرُ الْخُبْزَ وَيَجْعَلُ عَلَيْهِ اللَّحْمَ وَيُخَمِّرُ الْبُرْمَةَ وَالتَّنُّورَ إِذَا أَخَذَ مِنْهُ وَيُقَرِّبُ إِلَى أَصْحَابِهِ , ثُمَّ يَنْزِعُ فَلَمْ يَزَلْ يَكْسِرُ الْخُبْزَ وَيَغْرِفُ حَتَّى شَبِعُوا وَبَقِيَ بَقِيَّةٌ , قَالَ : " كُلِي هَذَا وَأَهْدِي فَإِنَّ النَّاسَ أَصَابَتْهُمْ مَجَاعَةٌ " .
مولانا داود راز
´ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد ایمن حبشی نے بیان کیا کہ` میں جابر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے بیان کیا کہ ہم غزوہ خندق کے موقع پر خندق کھود رہے تھے کہ ایک بہت سخت قسم کی چٹان نکلی ( جس پر کدال اور پھاوڑے کا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا اس لیے خندق کی کھدائی میں رکاوٹ پیدا ہو گئی ) صحابہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے عرض کیا کہ خندق میں ایک چٹان ظاہر ہو گئی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اندر اترتا ہوں ۔ چنانچہ آپ کھڑے ہوئے اور اس وقت ( بھوک کی شدت کی وجہ سے ) آپ کا پیٹ پتھر سے بندھا ہوا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدال اپنے ہاتھ میں لی اور چٹان پر اس سے مارا ۔ چٹان ( ایک ہی ضرب میں ) بالو کے ڈھیر کی طرح بہہ گئی ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے گھر جانے کی اجازت دیجئیے ۔ ( گھر آ کر ) میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ آج میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( فاقوں کی وجہ سے ) اس حالت میں دیکھا کہ صبر نہ ہو سکا ۔ کیا تمہارے پاس ( کھانے کی ) کوئی چیز ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ ہاں کچھ جَو ہیں اور ایک بکری کا بچہ ۔ میں نے بکری کے بچہ کو ذبح کیا اور میری بیوی نے جَو پیسے ۔ پھر گوشت کو ہم نے چولھے پر ہانڈی میں رکھا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آٹا گوندھا جا چکا تھا اور گوشت چولھے پر پکنے کے قریب تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے عرض کیا گھر کھانے کے لیے مختصر کھانا تیار ہے ۔ یا رسول اللہ ! آپ اپنے ساتھ ایک دو آدمیوں کو لے کر تشریف لے چلیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کتنا ہے ؟ میں نے آپ کو سب کچھ بتا دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو بہت ہے اور نہایت عمدہ و طیب ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی بیوی سے کہہ دو کہ چولھے سے ہانڈی نہ اتاریں اور نہ تنور سے روٹی نکالیں میں ابھی آ رہا ہوں ۔ پھر صحابہ سے فرمایا کہ سب لوگ چلیں ۔ چنانچہ تمام انصار و مہاجرین تیار ہو گئے ۔ جب جابر رضی اللہ عنہ گھر پہنچے تو اپنی بیوی سے انہوں نے کہا اب کیا ہو گا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو تمام مہاجرین و انصار کو ساتھ لے کر تشریف لا رہے ہیں ۔ انہوں نے پوچھا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے کچھ پوچھا بھی تھا ؟ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ اندر داخل ہو جاؤ لیکن اژدہام نہ ہونے پائے ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم روٹی کا چورا کرنے لگے اور گوشت اس پر ڈالنے لگے ۔ ہانڈی اور تنور دونوں ڈھکے ہوئے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لیا اور صحابہ کے قریب کر دیا ۔ پھر آپ نے گوشت اور روٹی نکالی ۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر روٹی چورا کرتے جاتے اور گوشت اس میں ڈالتے جاتے ۔ یہاں تک کہ تمام صحابہ شکم سیر ہو گئے اور کھانا بچ بھی گیا ۔ آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جابر رضی اللہ عنہ کی بیوی سے ) فرمایا کہ اب یہ کھانا تم خود کھاؤ اور لوگوں کے یہاں ہدیہ میں بھیجو کیونکہ لوگ آج کل فاقہ میں مبتلا ہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4101
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4102
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ , أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ , أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ , قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : لَمَّا حُفِرَ الْخَنْدَقُ رَأَيْتُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمَصًا شَدِيدًا , فَانْكَفَأْتُ إِلَى امْرَأَتِي فَقُلْتُ : هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ ؟ فَإِنِّي رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمَصًا شَدِيدًا , فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ جِرَابًا فِيهِ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ وَلَنَا بُهَيْمَةٌ دَاجِنٌ فَذَبَحْتُهَا وَطَحَنَتِ الشَّعِيرَ , فَفَرَغَتْ إِلَى فَرَاغِي وَقَطَّعْتُهَا فِي بُرْمَتِهَا ثُمَّ وَلَّيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ : لَا تَفْضَحْنِي بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِمَنْ مَعَهُ , فَجِئْتُهُ فَسَارَرْتُهُ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْنَا بُهَيْمَةً لَنَا وَطَحَنَّا صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ كَانَ عِنْدَنَا فَتَعَالَ أَنْتَ وَنَفَرٌ مَعَكَ , فَصَاحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " يَا أَهْلَ الْخَنْدَقِ إِنَّ جَابِرًا قَدْ صَنَعَ سُورًا فَحَيَّ هَلًا بِهَلّكُمْ " , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُنْزِلُنَّ بُرْمَتَكُمْ وَلَا تَخْبِزُنَّ عَجِينَكُمْ حَتَّى أَجِيءَ " , فَجِئْتُ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْدُمُ النَّاسَ حَتَّى جِئْتُ امْرَأَتِي , فَقَالَتْ : بِكَ وَبِكَ , فَقُلْتُ : قَدْ فَعَلْتُ الَّذِي قُلْتِ , فَأَخْرَجَتْ لَهُ عَجِينًا فَبَصَقَ فِيهِ وَبَارَكَ , ثُمَّ عَمَدَ إِلَى بُرْمَتِنَا فَبَصَقَ وَبَارَكَ , ثُمَّ قَالَ : " ادْعُ خَابِزَةً فَلْتَخْبِزْ مَعِي وَاقْدَحِي مِنْ بُرْمَتِكُمْ وَلَا تُنْزِلُوهَا وَهُمْ أَلْفٌ , فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَقَدْ أَكَلُوا حَتَّى تَرَكُوهُ وَانْحَرَفُوا وَإِنَّ بُرْمَتَنَا لَتَغِطُّ كَمَا هِيَ وَإِنَّ عَجِينَنَا لَيُخْبَزُ كَمَا هُوَ .
مولانا داود راز
´مجھ سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا ، کہا ہم کو حنظلہ بن ابی سفیان نے خبر دی ، کہا ہم کو سعید بن میناء نے خبر دی ، کہا میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` جب خندق کھودی جا رہی تھی تو میں نے معلوم کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی بھوک میں مبتلا ہیں ۔ میں فوراً اپنی بیوی کے پاس آیا اور کہا کیا تمہارے پاس کوئی کھانے کی چیز ہے ؟ میرا خیال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی بھوکے ہیں ۔ میری بیوی ایک تھیلا نکال کر لائیں جس میں ایک صاع جَو تھے ۔ گھر میں ہمارا ایک بکری کا بچہ بھی بندھا ہوا تھا ۔ میں نے بکری کے بچے کو ذبح کیا اور میری بیوی نے جَو کو چکی میں پیسا ۔ جب میں ذبح سے فارغ ہوا تو وہ بھی جَو پیس چکی تھیں ۔ میں نے گوشت کی بوٹیاں کر کے ہانڈی میں رکھ دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ میری بیوی نے پہلے ہی تنبیہ کر دی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے سامنے مجھے شرمندہ نہ کرنا ۔ چنانچہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے کان میں یہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم نے ایک چھوٹا سا بچہ ذبح کر لیا ہے اور ایک صاع جَو پیس لیے ہیں جو ہمارے پاس تھے ۔ اس لیے آپ دو ایک صحابہ کو ساتھ لے کر تشریف لے چلیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت بلند آواز سے فرمایا کہ اے اہل خندق ! جابر ( رضی اللہ عنہ ) نے تمہارے لیے کھانا تیار کروایا ہے ۔ بس اب سارا کام چھوڑ دو اور جلدی چلے چلو ۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک میں آ نہ جاؤں ہانڈی چولھے پر سے نہ اتارنا اور تب آٹے کی روٹی پکانی شروع کرنا ۔ میں اپنے گھر آیا ۔ ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے ۔ میں اپنی بیوی کے پاس آیا تو وہ مجھے برا بھلا کہنے لگیں ۔ میں نے کہا کہ تم نے جو کچھ مجھ سے کہا تھا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عرض کر دیا تھا ۔ آخر میری بیوی نے گندھا ہوا آٹا نکالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنے لعاب دہن کی آمیزش کر دی اور برکت کی دعا کی ۔ ہانڈی میں بھی آپ نے لعاب کی آمیزش کی اور برکت کی دعا کی ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب روٹی پکانے والی کو بلاؤ ۔ وہ میرے سامنے روٹی پکائے اور گوشت ہانڈی سے نکالے لیکن چولھے سے ہانڈی نہ اتارنا ۔ صحابہ کی تعداد ہزار کے قریب تھی ۔ میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتا ہوں کہ اتنے ہی کھانے کو سب نے ( شکم سیر ہو کر ) کھایا اور کھانا بچ بھی گیا ۔ جب تمام لوگ واپس ہو گئے تو ہماری ہانڈی اسی طرح ابل رہی تھی جس طرح شروع میں تھی اور آٹے کی روٹیاں برابر پکائی جا رہی تھیں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4102
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4103
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدَةُ , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ سورة الأحزاب آية 10 , قَالَتْ : " كَانَ ذَاكَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ .
مولانا داود راز
´مجھ سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` ( آیت ) «إذا جاؤوكم من فوقكم ومن أسفل منكم وإذ زاغت الأبصار وبلغت القلوب الحناجر» ” جب مشرکین تمہارے بالائی علاقہ سے اور تمہارے نشیبی علاقہ سے تم پر چڑھ آئے تھے اور جب مارے ڈر کے آنکھیں چکا چوند ہو گئی تھیں اور دل حلق تک آ گئے تھے ۔ “ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ آیت غزوہ خندق کے متعلق نازل ہوئی تھی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4103
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4104
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ التُّرَابَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّى أَغْمَرَ بَطْنَهُ أَوِ اغْبَرَّ بَطْنُهُ , يَقُولُ : " وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا , وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا , فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا , إِنَّ الْأُولَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا , إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا " , وَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ أَبَيْنَا أَبَيْنَا .
مولانا داود راز
´ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے ان سے ابواسحاق سبیعی نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` غزوہ خندق میں ( خندق کی کھدائی کے وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے ۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بطن مبارک غبار سے اٹ گیا تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر یہ کلمات جاری تھے ” اللہ کی قسم ! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہمیں سیدھا راستہ نہ ملتا ۔ نہ ہم صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے پس تو ہمارے دلوں پر سکینت و طمانیت نازل فرما اور اگر ہماری کفار سے مڈبھیڑ ہو جائے تو ہمیں ثابت قدمی عنایت فرما ۔ جو لوگ ہمارے خلاف چڑھ آئے ہیں جب یہ کوئی فتنہ چاہتے ہیں تو ہم ان کی نہیں مانتے ۔ «أبينا أبينا» ( ہم ان کی نہیں مانتے ۔ ہم ان کی نہیں مانتے ) پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز بلند ہو جاتی ۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4104
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4105
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ شُعْبَةَ , قَالَ : حَدَّثَنِي الْحَكَمُ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا مجھ سے حکم بن عتیبہ نے بیان کیا ، ان سے مجاہد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” پروا ہوا کے ذریعے میری مدد کی گئی اور قوم عاد پچھوا ہوا سے ہلاک کر دی گئی تھی ۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4105
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4106
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ , حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ , قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ , يُحَدِّثُ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ وَخَنْدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُهُ يَنْقُلُ مِنْ تُرَابِ الْخَنْدَقِ حَتَّى وَارَى عَنِّي الْغُبَارُ جِلْدَةَ بَطْنِهِ , وَكَانَ كَثِيرَ الشَّعَرِ فَسَمِعْتُهُ يَرْتَجِزُ بِكَلِمَاتِ ابْنِ رَوَاحَةَ وَهُوَ يَنْقُلُ مِنَ التُّرَابِ , يَقُولُ : " اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا , وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا , فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا , إِنَّ الْأُولَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا , وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا " , قَالَ : ثُمَّ يَمُدُّ صَوْتَهُ بِآخِرِهَا .
مولانا داود راز
´مجھ سے احمد بن عثمان نے بیان کیا کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ان سے ابواسحاق سبیعی نے کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ` غزوہ احزاب کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ خندق کھودتے ہوئے اس کے اندر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی اٹھا اٹھا کر لا رہے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بطن مبارک کی کھال مٹی سے اٹ گئی تھی ۔ آپ کے ( سینے سے پیٹ تک ) گھنے بالوں ( کی ایک لکیر ) تھی ۔ میں نے خود سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کے رجزیہ اشعار مٹی اٹھاتے ہوئے پڑھ رہے تھے ۔ ” اے اللہ ! اگر تو نہ ہوتا تو ہمیں سیدھا راستہ نہ ملتا نہ ہم صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے پس ہم پر تو اپنی طرف سے سکینت نازل فرما اور اگر ہمارا آمنا سامنا ہو جائے تو ہمیں ثابت قدمی عطا فرما ۔ یہ لوگ ہمارے اوپر ظلم سے چڑھ آئے ہیں ۔ جب یہ ہم سے کوئی فتنہ چاہتے ہیں تو ہم ان کی نہیں سنتے ۔ “ راوی نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری کلمات کو کھینچ کر پڑھتے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4106
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4107
حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : " أَوَّلُ يَوْمٍ شَهِدْتُهُ يَوْمُ الْخَنْدَقِ " .
مولانا داود راز
´مجھ سے عبدہ بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` سب سے پہلا غزوہ جس میں میں نے شرکت کی وہ غزوہ خندق ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4107
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4108
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : وَأَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ وَنَوْسَاتُهَا تَنْطُفُ , قُلْتُ : قَدْ كَانَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ مَا تَرَيْنَ فَلَمْ يُجْعَلْ لِي مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ , فَقَالَتْ : الْحَقْ فَإِنَّهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ وَأَخْشَى أَنْ يَكُونَ فِي احْتِبَاسِكَ عَنْهُمْ فُرْقَةٌ , فَلَمْ تَدَعْهُ حَتَّى ذَهَبَ فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ خَطَبَ مُعَاوِيَةُ , قَالَ : مَنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَتَكَلَّمَ فِي هَذَا الْأَمْرِ فَلْيُطْلِعْ لَنَا قَرْنَهُ فَلَنَحْنُ أَحَقُّ بِهِ مِنْهُ وَمِنْ أَبِيهِ , قَالَ حَبِيبُ بْنُ مَسْلَمَةَ : فَهَلَّا أَجَبْتَهُ , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَحَلَلْتُ حُبْوَتِي وَهَمَمْتُ أَنْ أَقُولَ أَحَقُّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْكَ مَنْ قَاتَلَكَ وَأَبَاكَ عَلَى الْإِسْلَامِ , فَخَشِيتُ أَنْ أَقُولَ كَلِمَةً تُفَرِّقُ بَيْنَ الْجَمْعِ وَتَسْفِكُ الدَّمَ وَيُحْمَلُ عَنِّي غَيْرُ ذَلِكَ , فَذَكَرْتُ مَا أَعَدَّ اللَّهُ فِي الْجِنَانِ , قَالَ حَبِيبٌ : حُفِظْتَ وَعُصِمْتَ . قَالَ مَحْمُودٌ : عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ : وَنَوْسَاتُهَا .
مولانا داود راز
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں ہشام نے خبر دی، انہوں نے معمر سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ سے اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا۔ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اور مجھے ابنِ طاؤس نے خبر دی، انہوں نے عکرمہ بن خالد سے روایت کی، انہوں نے ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس داخل ہوا، اس وقت ان کی چوٹیوں سے پانی ٹپک رہا تھا۔ میں نے کہا: لوگوں کے معاملات میں جو کچھ ہو چکا ہے وہ آپ دیکھ ہی رہی ہیں، اور اس معاملے میں میرے لیے کچھ بھی مقرر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے فرمایا: تم جا کر لوگوں سے ملو، کیونکہ وہ تمہارا انتظار کر رہے ہیں، اور مجھے اندیشہ ہے کہ تمہارا ان سے رک جانا کہیں اختلاف کا سبب نہ بن جائے۔ چنانچہ انہوں نے انہیں جانے پر آمادہ کیا یہاں تک کہ وہ چلے گئے۔ پھر جب لوگ منتشر ہو گئے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا: جو شخص اس معاملے میں بات کرنا چاہتا ہے، وہ سامنے آ کر کھلے دل سے اپنی بات کرے، کیونکہ ہم اس کے اور اس کے باپ سے زیادہ اس کے حق دار ہیں۔ حبیب بن مسلمہ نے کہا: آپ نے ان کا جواب کیوں نہ دیا؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے اپنی بیٹھک کھولی اور ارادہ کیا کہ کہوں: اس معاملے کا تم سے زیادہ حق دار وہ ہے جس نے تم سے اور تمہارے باپ سے اسلام پر جنگ کی تھی، مگر مجھے اندیشہ ہوا کہ میں کوئی ایسی بات نہ کہہ بیٹھوں جو جماعت میں تفرقہ ڈال دے، خونریزی کا سبب بن جائے، اور میری بات کا کوئی اور مطلب لیا جائے، چنانچہ میں نے وہ سب یاد کیا جو اللہ تعالیٰ نے جنتوں میں تیار کر رکھا ہے۔ حبیب بن مسلمہ نے کہا: آپ محفوظ رکھے گئے اور بچا لیے گئے۔ محمود نے عبدالرزاق سے روایت کیا کہ لفظ «ونوساتها» آیا ہے۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4108
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4109
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ , قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ : " نَغْزُوهُمْ وَلَا يَغْزُونَنَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق سبیعی نے ‘ ان سے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احزاب کے موقع پر (جب کفار کا لشکر ناکام واپس ہو گیا) فرمایا کہ اب ہم ان سے لڑیں گے۔ آئندہ وہ ہم پر چڑھ کر کبھی نہ آ سکیں گے۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4109
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4110
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ صُرَدٍ , يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ حِينَ أَجْلَى الْأَحْزَابَ عَنْهُ : " الْآنَ نَغْزُوهُمْ وَلَا يَغْزُونَنَا نَحْنُ نَسِيرُ إِلَيْهِمْ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اسرائیل بن یونس نے بیان کیا ‘ انہوں نے ابواسحاق سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ` میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ جب عرب کے قبائل (جو غزوہ خندق کے موقع پر مدینہ چڑھ کر آئے تھے) ناکام واپس ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب ہم ان سے جنگ کریں گے ‘ وہ ہم پر چڑھ کر نہ آ سکیں گے بلکہ ہم ہی ان پر فوج کشی کیا کریں گے۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4110
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4111
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ عُبَيْدَةَ , عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عنه , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ : " مَلَأَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا كَمَا شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن حسان نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن سیرین نے ‘ ان سے عبیدہ سلمانی نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے موقع پر فرمایا کہ جس طرح ان کفار نے ہمیں صلوٰۃ وسطیٰ (نماز عصر) نہیں پڑھنے دی اور سورج غروب ہو گیا ‘ اللہ تعالیٰ بھی ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4111
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4112
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَاءَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ جَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ , وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كِدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَغْرُبَ , قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُهَا " , فَنَزَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُطْحَانَ , فَتَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ وَتَوَضَّأْنَا لَهَا , فَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ , ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ .
مولانا داود راز
´ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہشام بن حسان نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے ‘ ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ` عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے موقع پر سورج غروب ہونے کے بعد (لڑ کر) واپس ہوئے۔ وہ کفار قریش کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سورج غروب ہونے کو ہے اور میں عصر کی نماز اب تک نہیں پڑھ سکا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! نماز تو میں بھی نہ پڑھ سکا۔ آخر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی بطحان میں اترے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے وضو کیا۔ ہم نے بھی وضو کیا ‘ پھر عصر کی نماز سورج غروب ہونے کے بعد پڑھی اور اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4112
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4113
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ , قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ : " مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ؟ " , فَقَالَ الزُّبَيْرُ : أَنَا , ثُمَّ قَالَ : " مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ؟ " فَقَالَ الزُّبَيْرُ : أَنَا , ثُمَّ قَالَ : " مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ؟ " فَقَالَ الزُّبَيْرُ : أَنَا , ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيَّ , وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی ‘ ان سے محمد بن منکدر نے بیان کیا اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ` غزوہ احزاب کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کفار کے لشکر کی خبریں کون لائے گا؟ زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں تیار ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کفار کے لشکر کی خبریں کون لائے گا؟ اس مرتبہ بھی زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ پوچھا کہ کفار کے لشکر کی خبریں کون لائے گا؟ زبیر رضی اللہ عنہ نے اس مرتبہ بھی اپنے آپ کو پیش کیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4113
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4114
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ , أَعَزَّ جُنْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ , وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ , فَلَا شَيْءَ بَعْدَهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے سعید بن ابی سعید نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے ” اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے جس نے اپنے لشکر کو فتح دی۔ اپنے بندے کی مدد کی (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی) اور احزاب (یعنی افواج کفار) کو تنہا بھگا دیا پس اس کے بعد کوئی چیز اس کے مدمقابل نہیں ہو سکتی۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4114
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4115
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ , أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ , وَعَبْدَةُ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ , قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , يَقُولُ : دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَحْزَابِ , فَقَالَ : " اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ , اهْزِمْ الْأَحْزَابَ , اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو فزاری اور عبدہ نے خبر دی ‘ ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب (افواج کفار) کے لیے (غزوہ خندق کے موقع پر) بددعا کی ” اے اللہ! کتاب کے نازل کرنے والے! جلدی حساب لینے والے! کفار کے لشکر کو شکست دے۔ اے اللہ! انہیں شکست دے۔ یا اللہ! ان کی طاقت کو متزلزل کر دے۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4115
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4116
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ , عَنْ سَالِمٍ , وَنَافِعٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَفَلَ مِنَ الْغَزْوِ أَوِ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ يَبْدَأُ فَيُكَبِّرُ ثَلَاثَ مِرَارٍ , ثُمَّ يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ , لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ , آيِبُونَ تَائِبُونَ , عَابِدُونَ سَاجِدُونَ , لِرَبِّنَا حَامِدُونَ , صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ , وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں سالم بن عبداللہ بن عمر اور نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوے، حج یا عمرے سے واپس آتے تو سب سے پہلے تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے۔ پھر یوں فرماتے ” اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاہت اسی کے لیے ہے، حمد اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (یا اللہ!) ہم واپس ہو رہے ہیں توبہ کرتے ہوئے، عبادت کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور سجدہ کرتے ہوئے اور اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اپنے بندے کی مدد کی اور کفار کی فوجوں کو اس نے اکیلے شکست دے دی۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4116
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔