مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: ارشاد نبوی کہ احد پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے۔
حدیث نمبر: Q4083
قَالَهُ عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ عباس بن سہل نے راوی ابوحمید سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد روایت کیا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: Q4083
حدیث نمبر: 4083
حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي , عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی ، انہیں قرہ بن خالد نے ، انہیں قتادہ نے اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” احد پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں ۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4083
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4084
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ , أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنْ عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَعَ لَهُ أُحُدٌ فَقَالَ : " هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ , اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّي حَرَّمْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں مطلب کے غلام عمرو بن ابی عمرو نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( خیبر سے واپس ہوتے ہوئے ) احد پہاڑ دکھائی دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں ۔ اے اللہ ! ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا شہر قرار دیا تھا اور میں ان دو پتھریلے میدانوں کے درمیان والے علاقے ( مدینہ منورہ ) کو حرمت والا شہر قرار دیتا ہوں ۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4084
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 4085
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ أَبِي الْخَيْرِ , عَنْ عُقْبَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ , ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ , فَقَالَ : " إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ , وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ , وَإِنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ , أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ , وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي وَلَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا " .
مولانا داود راز
´مجھ سے عمرو بن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ابی حبیب نے ، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور شہداء احد پر نماز جنازہ ادا کی ، جیسے مردوں پر ادا کی جاتی ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تمہارے آگے جاؤں گا ، میں تمہارے حق میں گواہ رہوں گا ۔ میں اب بھی اپنے حوض ( حوض کوثر ) کو دیکھ رہا ہوں ۔ مجھے دنیا کے خزانوں کی کنجی عطا فرمائی گئی ہے یا ( آپ حوض کوثر نے یوں فرمایا ) «مفاتيح الأرض» یعنی زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں ۔ ( دونوں جملوں کا مطلب ایک ہی ہے ) ۔ اللہ کی قسم ! میں تمہارے بارے میں اس سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے اس کا ڈر ہے کہ تم دنیا کے لیے حرص کرنے لگو گے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4085
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔