مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: غزوہ عشیرہ یا عسرہ کا بیان۔
حدیث نمبر: Q3949
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : أَوَّلُ مَا غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَبْوَاءَ ثُمَّ بُوَاطَ ثُمَّ الْعُشَيْرَةَ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ محمد بن اسحاق نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے پہلا غزوہ مقام ابواء کا ہوا ، پھر جبل بواط کا ، پھر عشیرہ کا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: Q3949
حدیث نمبر: 3949
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , كُنْتُ إِلَى جَنْبِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فَقِيلَ لَهُ : " كَمْ غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةٍ ؟ " قَالَ : " تِسْعَ عَشْرَةَ " ، قِيلَ : كَمْ غَزَوْتَ أَنْتَ مَعَهُ ؟ قَالَ : سَبْعَ عَشْرَةَ ، قُلْتُ : فَأَيُّهُمْ كَانَتْ أَوَّلَ ؟ قَالَ : " الْعُسَيْرَةُ أَوْ الْعُشَيْرُ " , فَذَكَرْتُ لِقَتَادَةَ ، فَقَالَ : الْعُشَيْرُ .
مولانا داود راز
´مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہب نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ، ان سے ابواسحاق نے کہ` میں ایک وقت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا ۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے غزوے کئے ؟ انہوں نے کہا انیس ۔ میں نے پوچھا آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کتنے غزوات میں شریک رہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ سترہ میں ۔ میں نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے پہلا غزوہ کون سا تھا ؟ کہا کہ عسیرہ یا عشیرہ ۔ پھر میں نے اس کا ذکر قتادہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ ( صحیح لفظ ) عشیرہ ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 3949
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔