کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ کے پاس یہودیوں کے آنے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q3941
هَادُوا سورة البقرة آية 62 صَارُوا يَهُودًا وَأَمَّا قَوْلُهُ هُدْنَا سورة الأعراف آية 156 تُبْنَا هَائِدٌ تَائِبٌ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ سورۃ البقرہ میں لفظ «هادوا» کے معنی ہیں کہ یہودی ہوئے اور سورۃ الاعراف میں «هدنا» «تبنا» کے معنی میں ہے ( ہم نے توبہ کی ) اسی سے «هائد» کے معنی «تائب» یعنی توبہ کرنے والا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب مناقب الأنصار / حدیث: Q3941
حدیث نمبر: 3941
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ آمَنَ بِي عَشَرَةٌ مِنْ الْيَهُودِ لآمَنَ بِي الْيَهُودُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے قرہ بن خالد نے بیان کیا ، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اگر دس یہودی ( احبار و علماء ) مجھ پر ایمان لے آتے تو تمام یہود مسلمان ہو جاتے ۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب مناقب الأنصار / حدیث: 3941
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3942
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ أَوْ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغُدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ،عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَإِذَا أُنَاسٌ مِنْ الْيَهُودِ يُعَظِّمُونَ عَاشُورَاءَ وَيَصُومُونَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَحْنُ أَحَقُّ بِصَوْمِهِ فَأَمَرَ بِصَوْمِهِ " .
مولانا داود راز
´مجھ سے احمد یا محمد بن عبیداللہ غدانی نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن اسامہ نے بیان کیا کہ انہیں ابو عمیس نے خبر دی ، انہیں قیس بن مسلم نے ، انہیں طارق بن شہاب نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ یہودی عاشوراء کے دن کی تعظیم کرتے ہیں اور اس دن روزہ رکھتے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم اس دن روزہ رکھنے کے زیادہ حقدار ہیں ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کے روزے کا حکم دیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب مناقب الأنصار / حدیث: 3942
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3943
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ عَاشُورَاءَ , فَسُئِلُوا عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالُوا : هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي أَظْفَرَ اللَّهُ فِيهِ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى فِرْعَوْنَ وَنَحْنُ نَصُومُهُ تَعْظِيمًا لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَحْنُ أَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ ثُمَّ أَمَرَ بِصَوْمِهِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے زیاد بن ایوب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابوبشر جعفر نے بیان کیا ، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ یہودی عاشوراء کے دن روزہ رکھتے ہیں ۔ اس کے متعلق ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون پر فتح عنایت فرمائی تھی چنانچہ ہم اس دن کی تعظیم میں روزہ رکھتے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم موسیٰ علیہ السلام سے تمہاری بہ نسبت زیادہ قریب ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب مناقب الأنصار / حدیث: 3943
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3944
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْدِلُ شَعْرَهُ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ , وَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ رُءُوسَهُمْ , وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ بِشَيْءٍ , ثُمَّ فَرَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبدان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے یونس نے ، ان سے زہری نے بیان کیا ، کہا مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی ، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سر کے بال کو پیشانی پر لٹکا دیتے تھے اور مشرکین مانگ نکالتے تھے اور اہل کتاب بھی اپنے سروں کے بال پیشانی پر لٹکائے رہنے دیتے تھے ۔ جن امور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( وحی کے ذریعہ ) کوئی حکم نہیں ہوتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں اہل کتاب کی موافقت پسند کرتے تھے ۔ پھر بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی مانگ نکالنے لگے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب مناقب الأنصار / حدیث: 3944
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3945
حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : هُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ جَزَّءُوهُ أَجْزَاءً فَآمَنُوا بِبَعْضِهِ وَكَفَرُوا بِبَعْضِهِ يَعْنِي قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى : الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْءَانَ عِضِينَ سورة الحجر آية 91 .
مولانا داود راز
´مجھ سے زیاد بن ایوب نے بیان کیا کہا ، ہم سے ہشیم نے بیان کیا کہا ، ہم کو ابوبشر ( جابر بن ابی وحشیہ ) نے خبر دی ، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ` وہ اہل کتاب ہی تو ہیں جنہوں نے آسمانی کتاب کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ، بعض باتوں پر ایمان لائے اور بعض باتوں کا انکار کیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب مناقب الأنصار / حدیث: 3945
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة