کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: ہند بنت عتبہ ربیعہ رضی اللہ عنہا کا بیان۔
حدیث نمبر: 3825
وَقَالَ عَبْدَانُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : جَاءَتْ هِنْدٌ بِنْتُ عُتْبَةَ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ مِنْ أَهْلِ خِبَاءٍ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ ، ثُمَّ مَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ ، أَنْ يَعِزُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ ، قَالَ : " وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ " ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسِّيكٌ فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أُطْعِمَ مِنَ الَّذِي لَهُ عِيَالَنَا ، قَالَ : " لَا أُرَاهُ إِلَّا بِالْمَعْرُوفِ "
مولانا داود راز
´اور عبدان نے بیان کیا ، انہیں عبداللہ نے خبر دی انہیں یونس نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، ان سے عروہ نے بیان کیا کہ` عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا : ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسلام لانے کے بعد ) حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ ! روئے زمین پر کسی گھرانے کی ذلت آپ کے گھرانے کی ذلت سی زیادہ میرے لیے خوشی کا باعث نہیں تھی لیکن آج کسی گھرانے کی عزت روئے زمین پر آپ کے گھرانے کی عزت سے زیادہ میرے لیے خوشی کی وجہ نہیں ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اس میں ابھی اور ترقی ہو گی ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے “ پھر ہند نے کہا : یا رسول اللہ ! ابوسفیان بہت بخیل ہیں تو کیا اس میں کچھ حرج ہے اگر میں ان کے مال میں سے ( ان کی اجازت کے بغیر ) بال بچوں کو کھلا دیا اور پلا دیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ہاں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ دستور کے مطابق ہونا چاہئے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب مناقب الأنصار / حدیث: 3825
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة