کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموں کا بیان۔
حدیث نمبر: Q3532
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ} وَقَوْلِهِ: {مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ}.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ الاحزاب میں ) ارشاد ” محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں ۔ “ اور اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ الفتح میں ) ارشاد «محمد رسول الله والذين معه أشداء على الكفار‏» ” محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار کے مقابلہ میں انتہائی سخت ہوتے ہیں ۔ “ اور سورۃ صف میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد «من بعدي اسمه أحمد‏» ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المناقب / حدیث: Q3532
حدیث نمبر: 3532
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَعْنٌ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِي خَمْسَةُ أَسْمَاءٍ أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِي الْكُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي وَأَنَا الْعَاقِبُ .
مولانا داود راز
´ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے معن نے کہا ، ان سے امام مالک نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے محمد بن جیبر بن مطعم نے اور ان سے ان کے والد ( جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میرے پانچ نام ہیں ۔ میں محمد ، احمد اور ماحی ہوں ( یعنی مٹانے والا ہوں ) کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ کفر کو مٹائے گا اور میں حاشر ہوں کہ تمام انسانوں کا ( قیامت کے دن ) میرے بعد حشر ہو گا اور میں عاقب ہوں یعنی خاتم النبین ہوں ۔ میرے بعد کوئی نیا پیغمبر دنیا میں نہیں آئے گا ۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المناقب / حدیث: 3532
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3533
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا تَعْجَبُونَ كَيْفَ يَصْرِفُ اللَّهُ عَنِّي شَتْمَ قُرَيْشٍ ، وَلَعْنَهُمْ يَشْتِمُونَ مُذَمَّمًا ، وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ " .
مولانا داود راز
´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے ابوالزناد نے ، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تمہیں تعجب نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے قریش کی گالیوں اور لعنت ملامت کو کس طرح دور کرتا ہے ۔ مجھے وہ «مذمم» کہہ کر برا کہتے ، اس پر لعنت کرتے ہیں ۔ حالانکہ میں تو محمد ہوں ۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المناقب / حدیث: 3533
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة