مرکزی مواد پر جائیں
15 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الصافات میں) فرمان ”اور بیشک الیاس رسولوں میں سے تھا، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم (اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی عبادت کرنے سے) ڈرتے کیوں نہیں ہو؟ تم بعل (بت) کی تو عبادت کرتے ہو اور سب سے اچھے پیدا کرنے والے کی عبادت کو چھوڑتے ہو۔ اللہ ہی تمہارا رب ہے اور تمہارے باپ دادوں کا بھی، لیکن ان کی قوم نے انہیں جھٹلایا۔ پس بیشک وہ سب لوگ (عذاب کے لیے) حاضر کئے جائیں گے۔ سوائے اللہ کے ان بندوں کے جو مخلص تھے اور ہم نے بعد میں آنے والی امتوں میں ان کا ذکر خیر چھوڑا ہے“۔
حدیث نمبر: Q3342
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : يُذْكَرُ بِخَيْرٍ سَلامٌ عَلَى إِلْ يَاسِينَ سورة الصافات آية 130 إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ سورة الصافات آية 131 إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ سورة الصافات آية 132 يُذْكَرُ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ إِلْيَاسَ هُوَ إِدْرِيسُ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «تركنا عليه في الآخرين‏» کے متعلق کہا کہ بھلائی کے ساتھ انہیں یاد کیا جاتا رہے گا ۔ سلامتی ہو الیاسین پر ، بیشک ہم اسی طرح مخلصین کو بدلہ دیتے ہیں ۔ بیشک وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے تھا ۔ ابن عباس اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ الیاس ، ادریس علیہ السلام کا نام تھا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب أحاديث الأنبياء / حدیث: Q3342

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔