کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: جو عورت (حج میں) طواف افاضہ کے بعد حائضہ ہو (اس کے متعلق کیا حکم ہے؟)۔
حدیث نمبر: 328
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ قَدْ حَاضَتْ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا أَلَمْ تَكُنْ طَافَتْ مَعَكُنَّ ؟ فَقَالُوا : بَلَى ، قَالَ : فَاخْرُجِي " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی ، انہوں نے عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم سے ، انہوں نے اپنے باپ ابوبکر سے ، انہوں نے عبدالرحمٰن کی بیٹی عمرہ سے ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ` انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ ! صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو ( حج میں ) حیض آ گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، شاید کہ وہ ہمیں روکیں گی ۔ کیا انہوں نے تمہارے ساتھ طواف ( زیارت ) نہیں کیا ۔ عورتوں نے جواب دیا کہ کر لیا ہے ۔ آپ نے اس پر فرمایا کہ پھر نکلو ۔
حدیث نمبر: 329
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " رُخِّصَ لِلْحَائِضِ أَنْ تَنْفِرَ إِذَا حَاضَتْ .
مولانا داود راز
´ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے عبداللہ بن طاؤس کے حوالہ سے ، وہ اپنے باپ طاؤس بن کیسان سے ، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ، آپ نے فرمایا کہ` حائضہ کے لیے ( جب کہ اس نے طواف افاضہ کر لیا ہو ) رخصت ہے کہ وہ گھر جائے ( اور طواف وداع کے لیے نہ رکی رہے ) ۔
حدیث نمبر: 330
وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ فِي أَوَّلِ أَمْرِهِ : إِنَّهَا لَا تَنْفِرُ ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ : تَنْفِرُ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لَهُنَّ " .
مولانا داود راز
´ابن عمر ابتداء میں اس مسئلہ میں کہتے تھے کہ` اسے ( بغیر طواف وداع کے ) جانا نہیں چاہیے ۔ پھر میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا کہ چلی جائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس کی رخصت دی ہے ۔