کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اس بارے میں کہ حیض کا آنا اور اس کا ختم ہونا کیونکر ہے؟
حدیث نمبر: Q320
وَكُنَّ نِسَاءٌ يَبْعَثْنَ إِلَى عَائِشَةَ بِالدُّرَجَةِ فِيهَا الْكُرْسُفُ فِيهِ الصُّفْرَةُ ، فَتَقُولُ : لَا تَعْجَلْنَ حَتَّى تَرَيْنَ الْقَصَّةَ الْبَيْضَاءَ تُرِيدُ بِذَلِكَ الطُّهْرَ مِنَ الْحَيْضَةِ ، وَبَلَغَ بِنْتَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ نِسَاءً يَدْعُونَ بِالْمَصَابِيحِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ يَنْظُرْنَ إِلَى الطُّهْرِ ، فَقَالَتْ : مَا كَانَ النِّسَاءُ يَصْنَعْنَ هَذَا وَعَابَتْ عَلَيْهِنَّ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ عورتیں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں ڈبیا بھیجتی تھیں جس میں کرسف ہوتا ۔ اس میں زردی ہوتی تھی ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتیں کہ جلدی نہ کرو یہاں تک کہ صاف سفیدی دیکھ لو ۔ اس سے ان کی مراد حیض سے پاکی ہوتی تھی ۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کو معلوم ہوا کہ عورتیں رات کی تاریکی میں چراغ منگا کر پاکی ہونے کو دیکھتی ہیں تو آپ نے فرمایا کہ عورتیں ایسا نہیں کرتی تھیں ۔ انہوں نے ( عورتوں کے اس کام کو ) معیوب سمجھا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحيض / حدیث: Q320
حدیث نمبر: 320
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ ، فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ہشام بن عروہ سے ، وہ اپنے باپ سے ، وہ عائشہ سے کہ` فاطمہ بنت ابی حبیش کو استحاضہ کا خون آیا کرتا تھا ۔ تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ رگ کا خون ہے اور حیض نہیں ہے ۔ اس لیے جب حیض کے دن آئیں تو نماز چھوڑ دیا کر اور جب حیض کے دن گزر جائیں تو غسل کر کے نماز پڑھ لیا کر ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحيض / حدیث: 320
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة