کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: اللہ عزوجل کے قول «مخلقة وغير مخلقة» (کامل الخلقت اور ناقص الخلقت) کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 318
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَكًا يَقُولُ يَا رَبِّ نُطْفَةٌ ، يَا رَبِّ عَلَقَةٌ ، يَا رَبِّ مُضْغَةٌ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقَهُ ، قَالَ : أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى ، شَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ ، فَمَا الرِّزْقُ وَالْأَجَلُ ، فَيُكْتَبُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے عبیداللہ بن ابی بکر کے واسطے سے ، وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رحم مادر میں اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ مقرر کیا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ اے رب ! اب یہ «نطفة» ہے ، اے رب ! اب یہ «علقة» ہو گیا ہے ، اے رب ! اب یہ «مضغة» ہو گیا ہے ۔ پھر جب اللہ چاہتا ہے کہ اس کی خلقت پوری کرے تو کہتا ہے کہ مذکر یا مونث ، بدبخت ہے یا نیک بخت ، روزی کتنی مقدر ہے اور عمر کتنی ۔ پس ماں کے پیٹ ہی میں یہ تمام باتیں فرشتہ لکھ دیتا ہے ۔