کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اگر کسی ذمی نے کسی پر جادو کر دیا تو کیا اسے معاف کیا جا سکتا ہے؟
حدیث نمبر: Q3175
وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ سُئِلَ أَعَلَى مَنْ سَحَرَ مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ قَتْلٌ ، قَالَ : بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ صُنِعَ لَهُ ذَلِكَ فَلَمْ يَقْتُلْ مَنْ صَنَعَهُ وَكَانَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ " .
مولانا داود راز
´ابن وہب نے بیان کیا ، انہیں یونس نے خبر دی کہ ابن شہاب رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا کہ` کیا اگر کسی ذمی نے کسی پر جادو کر دیا تو اسے قتل کر دیا جائے ؟ انہوں نے بیان کیا کہ یہ حدیث ہم تک پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تھا ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وجہ سے جادو کرنے والے کو قتل نہیں کروایا تھا اور آپ پر جادو کرنے والا اہل کتاب میں سے تھا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / کتاب الجزیہ والموادعہ / حدیث: Q3175
حدیث نمبر: 3175
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سُحِرَ حَتَّى كَانَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ صَنَعَ شَيْئًا وَلَمْ يَصْنَعْهُ " .
مولانا داود راز
´مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا گیا تھا ۔ تو بعض دفعہ ایسا ہوتا کہ آپ سمجھتے کہ میں نے فلاں کام کر لیا ہے ۔ حالانکہ آپ نے وہ کام نہ کیا ہوتا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / کتاب الجزیہ والموادعہ / حدیث: 3175
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة