حدیث نمبر: Q3167
وَقَالَ عُمَرُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللَّهُ بِهِ " .
مولانا داود راز
اور عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خیبر کے یہودیوں سے ) فرمایا کہ میں تمہیں اس وقت تک یہاں رہنے دوں گا جب تک اللہ تم کو یہاں رکھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / کتاب الجزیہ والموادعہ / حدیث: Q3167
حدیث نمبر: 3167
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ فَخَرَجْنَا حَتَّى جِئْنَا بَيْتَ الْمِدْرَاسِ ، فَقَالَ : أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَرْضِ فَمَنْ يَجِدْ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ ، وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے سعد مقبری نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد ( ابوسعید ) نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا` ہم ابھی مسجد نبوی میں موجود تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، اور فرمایا کہ یہودیوں کی طرف چلو ۔ چنانچہ ہم روانہ ہوئے اور جب بیت المدراس ( یہودیوں کا مدرسہ ) پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اسلام لاؤ تو سلامتی کے ساتھ رہو گے اور سمجھ لو کہ زمین اللہ اور اور اس کے رسول کی ہے ۔ اور میرا ارادہ ہے کہ تمہیں اس ملک سے نکال دوں ، پھر تم میں سے اگر کسی کی جائیداد کی قیمت آئے تو اسے بیچ ڈالے ۔ اگر تم اس پر تیار نہیں ہو ، تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ زمین اللہ اور اس کے رسول ہی کی ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / کتاب الجزیہ والموادعہ / حدیث: 3167
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 3168
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ الْأَحْوَلِ ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ثُمَّ بَكَى حَتَّى بَلَّ دَمْعُهُ الْحَصَى : يَوْمُ الْخَمِيسِ قُلْتُ : يَا أَبَا عَبَّاسٍ مَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ؟ قَالَ : اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ ، فَقَالَ " ائْتُونِي بِكَتِفٍ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا فَتَنَازَعُوا وَلَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ ، فَقَالُوا : مَا لَهُ أَهَجَرَ اسْتَفْهِمُوهُ ، فَقَالَ : ذَرُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونِي إِلَيْهِ فَأَمَرَهُمْ بِثَلَاثٍ ، قَالَ : أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ وَالثَّالِثَةُ خَيْرٌ إِمَّا أَنْ سَكَتَ عَنْهَا وَإِمَّا أَنْ قَالَهَا فَنَسِيتُهَا ، قَالَ سُفْيَانُ : هَذَا مِنْ قَوْلِ سُلَيْمَانَ .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے سلیمان احول نے ، انہوں نے سعید بن جبیر سے سنا اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا` آپ نے جمعرات کے دن کا ذکر کرتے ہوئے کہا ، تمہیں معلوم ہے کہ جمعرات کا دن ، ہائے ! یہ کون سا دن ہے ؟ اس کے بعد وہ اتنا روئے کہ ان کے آنسووں سے کنکریاں تر ہو گئیں ۔ سعید نے کہا میں نے عرض کیا ، یا ابوعباس ! جمعرات کے دن سے کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف ( مرض الموت ) میں شدت پیدا ہوئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مجھے ( لکھنے کا ) ایک کاغذ دے دو تاکہ میں تمہارے لیے ایک ایسی کتاب لکھ جاؤں ، جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو ۔ اس پر لوگوں کا اختلاف ہو گیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا کہ نبی کی موجودگی میں جھگڑنا غیر مناسب ہے ، دوسرے لوگ کہنے لگے ، بھلا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بےکار باتیں فرمائیں گے اچھا ، پھر پوچھ لو ، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے میری حالت پر چھوڑ دو ، کیونکہ اس وقت میں جس عالم میں ہوں ، وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کا حکم فرمایا ، کہ مشرکوں کو جزیرہ عرب سے نکال دینا اور وفود کے ساتھ اسی طرح خاطر تواضع کا معاملہ کرنا ، جس طرح میں کیا کرتا تھا ۔ تیسری بات کچھ بھلی سی تھی ، یا تو سعید نے اس کو بیان نہ کیا ، یا میں بھول گیا ۔ سفیان نے کہا یہ جملہ ( تیسری بات کچھ بھلی سی تھی ) سلیمان احول کا کلام ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / کتاب الجزیہ والموادعہ / حدیث: 3168
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»