کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کافروں کو امان دی (اپنے ذمہ میں لیا) ان کے امان کو قائم رکھنے کی وصیت کرنا۔
حدیث نمبر: Q3162
وَالذِّمَّةُ الْعَهْدُ، وَالإِلُّ الْقَرَابَةُ .
مولانا داود راز
اور «ذمة» کہتے ہیں عہد اور اقرار کو ، اور «الإل» کا لفظ جو قرآن میں آیا ہے اس کے معنے رشتہ داری کے ہیں ۔
حدیث نمبر: 3162
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُوَيْرِيَةَ بْنَ قُدَامَةَ التَّمِيمِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " قُلْنَا أَوْصِنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : أُوصِيكُمْ بِذِمَّةِ اللَّهِ فَإِنَّهُ ذِمَّةُ نَبِيِّكُمْ ، وَرِزْقُ عِيَالِكُمْ " .
مولانا داود راز
´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوجمرہ نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے جویریہ بن قدامہ تمیمی سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا تھا ، ( جب وہ زخمی ہوئے ) آپ سے ہم نے عرض کیا تھا کہ ہمیں کوئی وصیت کیجئے ! تو آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے عہد کی ( جو تم نے ذمیوں سے کیا ہے ) وصیت کرتا ہوں ( کہ اس کی حفاظت میں کوتاہی نہ کرنا ) کیونکہ وہ تمہارے نبی کا ذمہ ہے اور تمہارے گھر والوں کی روزی ہے ( کہ جزیہ کے روپیہ سے تمہارے بال بچوں کی گزران ہوتی ہے ) ۔