کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: مسافر جب سفر سے لوٹ کر آئے تو لوگوں کو کھانا کھلائے (دعوت کرے)۔
حدیث نمبر: Q3089
وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُفْطِرُ لِمَنْ يَغْشَاهُ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ( جب سفر سے واپس آتے تو ) ملاقاتیوں کے آنے کی وجہ سے روزہ نہیں رکھتے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجهاد والسير / حدیث: Q3089
حدیث نمبر: 3089
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ نَحَرَ جَزُورًا أَوْ بَقَرَةً " زَادَ مُعَاذٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَارِبٍ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ " اشْتَرَى مِنِّي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بِوَقِيَّتَيْنِ وَدِرْهَمٍ أَوْ دِرْهَمَيْنِ فَلَمَّا قَدِمَ صِرَارًا أَمَرَ بِبَقَرَةٍ فَذُبِحَتْ فَأَكَلُوا مِنْهَا ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْمَسْجِدَ فَأُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ، وَوَزَنَ لِي ثَمَنَ الْبَعِيرِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو وکیع نے خبر دی ‘ انہیں شعبہ نے ‘ انہیں محارب بن دثار نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے ( غزوہ تبوک یا ذات الرقاع سے ) تو اونٹ یا گائے ذبح کی ( راوی کو شبہ ہے ) معاذ عنبری نے ( اپنی روایت میں ) کچھ زیادتی کے ساتھ کہا ۔ ان سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے محارب بن دثار نے ‘ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اونٹ خریدا تھا ۔ دو اوقیہ اور ایک درہم یا ( راوی کو شبہ ہے کہ دو اوقیہ ) دو درہم میں ۔ جب آپ مقام صرار پر پہنچے تو آپ نے حکم دیا اور گائے ذبح کی گئی اور لوگوں نے اس کا گوشت کھایا ۔ پھر جب آپ مدینہ منورہ پہنچے تو مجھے حکم دیا کہ پہلے مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھوں ‘ اس کے بعد مجھے میرے اونٹ کی قیمت وزن کر کے عنایت فرمائی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 3089
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3090
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَدِمْتُ مِنْ سَفَرٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ صِرَارٌ مَوْضِعٌ نَاحِيَةٌ بِالْمَدِينَةِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے محارب بن دثار نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` میں سفر سے واپس مدینہ پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ مسجد میں جا کر دو رکعت نفل نماز پڑھوں ‘ صرار ( مدینہ منورہ سے تین میل کے فاصلے پر مشرق میں ) ایک جگہ کا نام ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 3090
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة